ڈیفنس تھانے کی حدود قیوم آباد میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس بدستور قائم

کراچی: تھانہ ڈیفنس کی حدود قیوم آباد میں غیر قانونی ہائیڈرنٹس بدستور قائم ہیں، تھانے کی جانب سے قیوم آباد میں ٹینکروں کے ذریعے پانی کی سپلائی کرنے والوں کو دیے گئے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ نادر نامی شخص نے سندھ ہائی کورٹ میں سی پی نمبر D-3010/2022دائر کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے تھانہ ڈیفنس پولیس کا عدالت میں کارروائی کا جواب جمع کرانا ہے۔

تھانہ ڈیفنس پولیس کے ایس ایچ او ذوالفقار علی اور ہیڈ محرر منصور کے مطابق قیوم آباد میں منی ہائیڈرنٹس قائم کرنے والے مالکان کو متنبہ کیا جارہا ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنر،علاقہ کورنگی ، واٹر بورڈ کا اجازت نامہ ، ایڈمنسٹریٹر کراچی کا اجازت نامہ ، علاقہ کمرشل ہے یا رہائشی ہے جس میں ہائیڈرنٹ چلایا رہا ہے، یہ ساری تفصیلات فراہم کریں۔

پویس کے مطابق مذکورہ دستاویزات فراہم نہ کرنے والے منی ہائیڈرنٹ کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا اور اس کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے بند کردیا جائے گا۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ ڈیفنس پولیس کی جانب سے خود کو اس مکروہ دھندے سے بری الذمہ قرار دینے کے لئے اس طرح کا لیٹر غیر قانونی پانی کی فروخت کرنے والوں کے نام لکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قیوم آباد میں اس وقت درجنوں منی ہائیڈرنٹس چلائے جارہے ہیں جن میں سے اکثر منی ہائیڈرنٹس کے مالکان کرائے پر زیر زمین ٹینک لیکر بڑے ٹرالرز کے ذریعے پانی منگواتے ہیں اور اس کو زیر زمین ٹینک میں اسٹور کرکے بعدازاں چھوٹے ٹینکروں اور ٹینکیوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔

تاہم بعض منی ہائیڈرٹس نے ڈیفنس کو جانے والی لائن سے غیر قانونی کنکشن بھی حاصل کررکھے ہیں، جہاں سے ڈیفنس اور قیوم آباد کے مکینوں کا پانی چوری کرکے انہی پر فروخت کیا جارہا ہے، قیوم آباد میں مذکورہ دھندہ تیزی سے بڑھتاجارہا ہے۔

قیوم آباد میں چلنے والے ان ہائیڈرٹس میں بابر جدون کا ہائیڈرنٹس اے ایریا میں ہے ، واحد کا ہائیڈرنٹ بھی اے ایریا میں اور کامران عرف کامی کا ہائیڈرنٹس بھی اے ایریا میں ، فہیم اور ارشد کا ہائیڈرنٹ بی ایریا میں اورملک عقیل کا ہائیڈرنٹ بی ایریا میں چلایا رہا ہے۔ مذکورہ ہائیڈرنٹس نوٹس ملنے کے باوجود بھی چل رہے ہیں ۔

حیرت انگیزصورتحال یہ ہے کہ ان ہائیڈرنٹس میں سے بعض ہائیڈرنٹس سے سنگل ٹینکر کے علاوہ دو ہزار گیلن ، 3 ہزار گیلن اور 6 ہزار گیلن کے ٹینکروں کی فلنگ بھی کی جاتی ہے جس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے ٹرالر سے منگوانے کے بعد ٹرالر کے ذریعے ہی فروخت کا مطلب غیر قانونی کنکشن لیا گیا ہے۔

رہائشی علاقے میں مذکورہ کمرشل سرگرمیوں کے باوجود متعلقہ اداروں کے علاوہ ٹریفک پولیس اور ڈیفنس پولیس کی جانب سے بھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کی وجہ سے پانی کے بھرے ٹینکروں کا رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے کسی بھی وقت کوئی بھی نقصان ہو سکتا ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں