اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کیخلاف حکم امتناع جاری کرنے سے انکار

اسلام آباد ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریوں کیخلاف حکم امتناع جاری کرنے سے انکار

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی کے لانگ مارچ کو روکنے کی حکومتی کوششوں کے خلاف دائر درخواست پر حکم امتناع جاری کرنے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاری کیخلاف درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت محض خدشات یا خوف کی بنیاد پر کوئی بھی حکم جاری نہیں کرسکتی۔

سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج بنیادی حق ہے لیکن آپ صورتحال سے بخوبی واقف ہیں، یہ عدالت کسی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتی۔

یہ بھی پڑھیں: نئے امریکی سفیر ڈونلڈ بلَوم پاکستان پہنچ گئے

پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ جب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے حکومت نے پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ مقدمہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی بہترین مثال ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کو لانگ مارچ کے شرکاء کے خلاف کارروائی سے روکنے کے لیے عدالت سے مداخلت کی درخواست دائر کی۔

پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کی جانب سے دائر اپیل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ انتظامیہ اور پولیس کو سڑکیں بند کرنے اور پارٹی کارکنوں کی گرفتاری سے روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین شہریوں کو احتجاج ریکارڈ کرانے کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت متعدد شہروں میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائش گاہوں پر چھاپوں کے بعد کی۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا کہ پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں کو ملک بھرسے حراست میں لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت نے پیر کی رات گئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف اس کارروائی کا آغاز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے پارٹی اجلاس کے بعد ہوا۔

وزیراعظم کی زیر صدارت اس اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سابق وزیر اعظم عمران خان کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر عمل درآمد نہیں کرے گی۔

اجلاس میں مسلم لیگ ن کی قیادت نے وزیر داخلہ کو پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کی ہدایت کر دی۔ پنجاب پولیس نے پیر کو رات گئے پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارے جن میں سابق وزیرِ توانائی حماد اظہر، راجہ بشارت، یاسمین راشد، سابق معاونِ خصوصی عثمان ڈار اور دیگر پی ٹی آئی رہنما شامل ہیں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں