عدالت نے فرانس سے تعلقات ختم کرنیکا معاملہ حکومت پر ڈال دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کی درخواست نمٹا دی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گستاخانہ خآکوں کے معاملے پر فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے وفاقی کابینہ کو بھجوا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گستاخانہ خآکوں کے خلاف پاکستان سمیت دُنیا بھر کے مسلم ممالک سراپا احتجاج ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی گستاخانہ خاکوں کے خلاف ایک درخواست دائر کی گئی جس کی سماعت معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی نے کی، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں پر مسلم ممالک نے احتجاج کیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی صدر نے 2 سرکاری عمارات پر خود گستاخانہ خاکے آویزاں کرنے کا حکم دیا، حکومت کو چاہئے کہ فرانس سے اپنا سفیر واپس بلائے اور فرانسیسی سفیر کو بھی ملک بدر کردے جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ پاکستانی حکومت نے مذمت تو کی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فرانسیسی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا، قومی اسمبلی سے قرارداد بھی منظور ہوئی جو ملک بھر کے عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ فرانس سے تعلقات منقطع کرنے اور گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر عوامی جذبات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے، بعد ازاں معاملہ وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا گیا۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل  فرانس میں گستاخانہ خاکوں پر احتجاج کرتے ہوئے سندھ اور پنجاب بھر کے وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے وکلاء تنظیموں کی اپیل پر عدالتی کارروائی معطل کردی، سندھ بھر کی عدالتوں میں آج کسی کیس کی سماعت نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں:  سندھ اور پنجاب کے وکلاء کا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ