سپریم کورٹ آج آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کیس کی سماعت کرے گی

Army-Chief-2.jpg

سپریم کورٹ  آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی آج سماعت کرے گی جبکہ سابق وزیر قانون فروغ نسیم  حکومتی مؤقف کا دفاع  کریں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی ججز بینچ کیس کی سماعت کرے گا جبکہ درخواست گزار ریاض حنیف راہی حکومتی مؤقف کے خلاف دلائل دیں گے۔

حنیف راہی اور اٹارنی جنرل انور منصور کیس کا دفاع کریں گے جبکہ سابق وزیر قانون فروغ نسیم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے دلائل کے لیے پیش ہوں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل عدالتِ عظمیٰ نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع  کا سرکاری نوٹیفیکیشن معطل کردیا  جبکہ درخواست گزار کی طرف سے درخواست واپس لینے کی استدعا بھی مسترد کر دی گئی۔

سپریم کورٹ میں گزشتہ روز  ججز کے 3 رکنی بینچ نے  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار نے کہا کہ میں اپنی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں جسے عدالتِ عظمیٰ نے مسترد کردیا۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیورسٹس فاؤنڈیشن کی طرف سے  سپریم کورٹ میں بیانِ حلفی جمع نہیں کروایا گیا، ہاتھ سے لکھی گئی درخواست قبول نہیں کی جاسکتی، نہ یہ معلوم ہے کہ مقدمہ آزادانہ طور پر واپس لیا جا رہا ہے۔عدالت نے معاملے کو مفادِ عامہ سے متعلق قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس میں تبدیل کردیا۔

مزید پڑھیں: عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا