ارطغرل غازی پر تنقید، انوشے اشرف نے یاسر حسین کو کھری کھری سنا دیں

ارطغرل غازی پر تنقید، انوشے اشرف نے یاسر حسین کو کھری کھری سنا دیں

ارطغرل غازی نامی ترک ڈرامے پر بے جا تنقید کیلئے اداکارہ انوشے اشرف نے یاسر حسین کو کھری کھری سنا دی ہیں جس پر یاسر حسین اپنی ہی بات سے مکر گئے۔

ترک ڈرامے ارطغرل غازی میں اسلامی تاریخ کو موضوع بنایا گیا ہے جس پر یاسر حسین سمیت چند دیگر فنکاروں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے تاہم انوشے اشرف کی رائے اس سے مختلف ہے۔

سماجی رابطے اور فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام پر ایک اسٹوری میں یاسر حسین نے ارطغرل غازی کے اداکاروں جیسا لباس پہنے ہوئے 2 پاکستانی نوجوانوں کی تصاویر شیئر کیں اور ترک ڈرامے پر تنقید کی۔

ارطغرل غازی پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے اداکار یاسر حسین نے کہا کہ تصویر والوں کو کوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ گھر کی مرغی دال برابر ہوتی ہے جبکہ باہر کے کچرے کو بھی مال برابر سمجھا جاتا ہے۔

پیغام میں واضح طور پر نام لیے بغیر ارطغرل غازی میں اہم کردار اداکرنے والے ترک فنکاروں کو کچرا کہہ دیا گیا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے دل کھول کر تنقید کی اور یاسر حسین کو آڑے ہاتھوں لیا گیا۔

پاکستانی اداکارہ انوشے یوسف نے بھی یاسر حسین کے اس پیغام پر ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یاد دلانا چاہوں گی کہ کوئی بھی شخص کسی کیلئے کچرا نہیں ہوسکتا۔ آپ کو چاہئے کہ فنکاروں کی عزت کریں۔

اداکارہ انوشے یوسف نے کہا کہ چاہے آپ کو کسی  کا کام پسند نہ بھی ہو، آپ کو دنیا بھر کے اداکاروں کی عزت کرنی چاہئے کیونکہ دنیا بھر کے فنکاروں کے درمیان ایک دوسرے کی عزت کا خاموش معاہدہ ہوتا ہے۔

انوشے یوسف نے کہا کہ آپ کو اپنی اداکاری کا دوسروں سے زیادہ پتہ ہوگا، ارطغرل غازی کا تصور کچرے سے کہیں دور ہے۔ ارطغرل ایک ایسی ڈرامہ سیریز ہے جس نے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں۔

انہوں نے کہا کہ آج لوگ بہتر اسکرپٹ، شوز اور بجٹ ڈھونڈ رہے ہیں اور کچرے سے بچ رہے ہیں۔ آخر میں آپ کو بتانا چاہوں گی کہ یہی وہ لوگ ہیں جو آپ کو تصویر میں نظر آئے۔ 

یاسر حسین کو سمجھاتے ہوئے انوشے اشرف کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو تصویر میں نظر آئے، وہ توجہ ضرور پائیں گے کیونکہ ارطغرل کا ڈرامہ اہم ہے۔ ہماری وجہ سے نہیں۔ ہمیں غیر ملکی ڈرامے کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

معروف اداکارہ کا کہنا تھا کہ ہر صورتحال کے مثبت اور منفی پہلو موجود ہوتے ہیں۔ آپ چاہے کھانے کو دیکھیں یا کسی اور چیز کو۔ منفی یا مثبت پہلو آپ کو ہر ایک میں نظر آئیں گے۔ 

دوسری جانب انوشے اشرف سے کرارا جواب پا کر یاسر حسین نے کہا کہ آپ پر سکون رہئے کیونکہ میری پوسٹ میں ارطغرل غازی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہم بچپن سے جاپانی استری، بھارتی ساڑھی اور آسٹریلیا کی کٹلری کو اچھا کہتے ہیں۔

ردِ عمل دیتے ہوئے یاسر حسین نے کہا کہ ہم اپنے ہی مال کو کچرا سمجھتے آئے ہیں اور میرا کہنا یہ ہے کہ سوچ میں تبدیلی ضروری ہے کیونکہ پاکستانی استری پائیدار، وزیر آباد کی کٹلری کمال ہوسکتی ہے۔

مثال دینے کی غرض سے یاسر حسین نے کہا کہ آپ ساری زندگی انگریزی بولتی رہیں اور گانے بھی آپ کو انگریزی ہی سمجھ میں آتے ہیں جو آپ کے شو میں بجائے جاتے ہیں۔ اس لیے آپ کو سمجھانے میں مشکل ہوگی۔

آخر میں یاسر حسین نے کہا کہ آپ پر سکون رہئے، انجوائے کیجئے اور میری ہر بات کو ارطغرل سے منسلک مت کیجئے۔ اپنا خیال رکھئے گا۔ آپ کی بہت عزت اور احترام ہے۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل پاکستانی اداکارہ اور اینکر پرسن فرح سعدیہ نے شادی میں دئیے جانے والے ارطغرل پروٹوکول پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ معیاری ڈرامے ثقافتی تحفظ کیلئے ضروری ہیں۔

 ٹوئٹر پر گزشتہ ماہ  پاکستانی اداکارہ فرح سعدیہ نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ شادی کے دوران ارطغرل غازی کے کرداروں کی طرح دولہا دلہن کو تلواروں کے سائے میں خوش آمدید کہتے ہیں جبکہ دولہا کے دوست اور کزنز نے مل کر کائی قبیلے کی رسم تازہ کی۔

مزید پڑھیں: ارطغرل پروٹوکول، معیاری ڈرامے ثقافتی تحفظ کیلئے ضروری ہیں۔فرح سعدیہ