میرے خاوند کو 4 ماہ قبل زندہ جلانے والوں کو سزا دی جائے۔عابدہ پروین کی اپیل

چکوال کی رہائشی عابدہ پروین نے اپیل کی ہے کہ میرے خاوند کو 4 ماہ قبل زندہ جلانے والوں کو سزا دی جائے، ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود آج تک ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے۔

عابدہ پروین کے خاوند کو چار ماہ قبل قتل کر دیا گیا تھا۔بیوہ خاتون کہنا ہے کہ  مجھے انصاف دیا جائے۔ بااثر ملزمان شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں اور  پولیس ان کو گرفتار نہیں کرتی۔

خاتون عابدہ پروین کا کہنا ہے کہ  اس کا خاوند لکی فرنیچر کارخانہ سمال انڈسٹری پنڈی روڈ چکوال میں پالش میکر کا کام کرتا تھا اس کارخانے میں علی رضا بھی پالشی کا کام کرتا تھا  جو اوکاڑہ کا رہنے والا تھا۔

علی رضا کو فرنیچر کی پالش کے لیے فیکٹری مالک راجہ ظفر علی کے گھر بھیجا گیا۔اسی دوران علی رضا نے فیکٹری کے مالک راجہ ظفر علی کی بیٹی سے ناجائز تعلقات استوار کر لیے اور اسے  بھگا کر کہیں لے گیا۔

مالک فیکٹری کی بیٹی تہریم ظفر کو جرگے کے ذریعے واپس لایا گیا اور علی رضا پر مقدمہ درج کرا دیا گیا جو تاحال اشتہاری ہے۔ گزشتہ برس 14 نومبر کو نو بجے رات کے وقت مالک فیکٹری میرے شوہر کے پاس آ گئے۔ 

راجہ ظفر علی اور خان بہادر نے  کارخانے میں داخل  ہو کر پالشی علی رضا کے بارےمیں میرے خاوند سے پوچھا کہ وہ کدھر ہے؟ اس نے کہا کہ وہ نہیں جانتا علی رضا کدھر ہے جس پر فیکٹری مالک اور خان عابد طیش میں آ گئے۔ 

 فیکٹری کے مالک راجہ ظفر اور خان عابد نے سپرٹ کی بوتل میرے خاوند پر انڈیل کر اسے  آگ لگا دی جس پر پوری فیکٹری میں واویلا مچ گیا۔

اس تمام واقعے کے فوراً بعد فیکٹری مینجر صفدر عباس میرے خاوند محمد افضال کو ڈی ایچ کیو چکوال لے گیا جسے راولپنڈی ہولی فیملی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ہوش آنے پر میرے خاوند نے بتایا کہ مجھے راجہ ظفر علی اور خان عابد نے سپرٹ  پھینک کر آگ لگائی۔ میرا خاوند زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔

عابدہ پروین سوال کرتی ہے کہ  میرے خاوند کا کیا قصور تھا؟ اسے صرف اس لیے مار دیا گیا کہ اس نے علی رضا کا نہیں بتایا کہ وہ کدھر ہے۔

بیوہ عابدہ پروین نے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کےلئے درخواست دی لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج نہ کی۔وہ دھکے کھاتی ہائیکورٹ گئی جہاں سے ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔

اس کے باوجود پولیس ان اثرورسوخ والے ملزمان پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے جبکہ  قاتل شہر میں آزاد گھوم رہےہیں۔ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس ملزمان کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔