وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور اس کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ریاست کے خلاف بیانات دینا کسی بھی سیاست دان کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی حلقے حکومت میں حصہ ملنے تک ریاست کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں لیکن اقتدار میں نمائندگی نہ ملنے پر ان کا موقف تبدیل ہو جاتا ہے۔
سینیٹ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جے یو آئی کی جانب سے گزشتہ کئی روز سے ان پر تنقید کی جا رہی تھی۔ ان کے بقول وہ ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کا احترام کرتے تھے تاہم ریاست کے بارے میں ان سے منسوب حالیہ بیان کے بعد ان کے لیے اس احترام کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے مولانا فضل الرحمان کے گزشتہ روز کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کے بارے میں اس نوعیت کی زبان استعمال کرنا کسی سیاسی رہنما کے شایانِ شان نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اختلافِ رائے ہر سیاست دان کا حق ہے لیکن تنقید کرنے والوں کو اس کے جواب کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے جے یو آئی کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو کسی معاملے پر اختلاف ہو تو وہ اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں تاہم انہیں حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کرنی چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اپنی تقریر کے دوران جے یو آئی کی سیاسی حکمتِ عملی پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر مذہب کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور مختلف معاملات میں اسلام کا حوالہ اپنے فائدے کے مطابق دیتے ہیں۔
محسن نقوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاستی معاملات کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ریاست کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








