متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہریوں کو سوشل میڈیا پر مظاہروں اور جلوسوں سے متعلق مواد شیئر کرنے میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ حکام کی اجازت کے بغیر احتجاجی سرگرمیوں کی تشہیر یا لوگوں کو ان میں شرکت کی ترغیب دینا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے قوانین کے تحت، بغیر اجازت انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا پر مظاہرے یا جلوس منعقد کرنے کا اعلان کرنے والے افراد کو قید اور 2 لاکھ سے 10 لاکھ درہم تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قانونی پابندیوں میں ایسے آن لائن پیغامات اور سرگرمیاں بھی شامل ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو حکومت کا تختہ الٹنے یا آئین اور قوانین کو معطل کرنے پر اکسایا جائے۔ ایسی خلاف ورزی سنگین جرم تصور کی جا سکتی ہے، جس پر عمر قید سمیت سخت سزا مقرر ہے۔
پاکستانی شہری کن باتوں کا خیال رکھیں؟
متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر پاکستانیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں سے متعلق پوسٹرز، پیغامات، اعلانات اور دعوت نامے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھیں۔ غیر مصدقہ معلومات یا پیغامات کو آگے پھیلانے سے بھی گریز کیا جائے۔
اگر کسی پاکستانی شہری کو ملازمت، رہائش یا کسی دوسرے ذاتی معاملے میں شکایت کا سامنا ہو تو سوشل میڈیا پر احتجاج کی تشہیر کرنے کے بجائے متعلقہ سرکاری ادارے، اپنے آجر یا پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرنا زیادہ مناسب راستہ ہے۔
قوانین کی خلاف ورزی سے گریز کی ہدایت
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ضوابط کی پابندی کریں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ذمہ داری کے ساتھ استعمال یقینی بنائیں۔ سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی سرگرمی سے پہلے اس کے ممکنہ قانونی نتائج کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ غیر ارادی طور پر کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








