سفارت خانے پر حملہ اور داعش کا دعویٰ

کالمز

"Conspiracies of the Elites Exposed!"
سرمایہ داروں کی خوشحالی، عوام کی غربت، پاکستان کی معیشت کا کھلا تضاد
Munir-Ahmed-OPED-750x750-1
پرتگال اور پاکستان کے درمیان 75 سالہ خوشگوار سفارتی تعلقات
Munir-Ahmed-OPED-750x750-1
دھوکا دہی کے بدلے امن انعام؟

عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کے خراسان گروپ نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جبکہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ان دعوؤں سے متعلق رپورٹس کی تصدیق کریں گے۔

داعش نے قبل ازیں دعویٰ کیا کہ یہ حملہ اس کے دو ارکان نے کیا جو درمیانے درجے کے اسنائپرز سے لیس تھے اور وہ سفیر اور ان کے محافظوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے جو سفارت خانے کے صحن میں موجود تھے۔

یہ واقعہ جمعے کے روز اس وقت پیش آیا، جب کابل میں پاکستانی سفارت خانے کا کمپاؤنڈ قریبی عمارت میں چھپے بندوق بردار دہشت گرد کی فائرنگ کی زد میں آیا۔ فائرنگ سے سیکیورٹی گارڈ افغانستان میں پاکستانی مشن کے سربراہ عبید الرحمان نظامانی کی حفاظت کرتے ہوئے شدید زخمی ہوگیا، تاہم زخموں کے باوجود محفوظ رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس حملے میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے اس سے دو آتشیں اسلحہ برآمد کر لیا گیا ہے۔

ادھر افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفارتکار کے قتل کی کوشش کی تحقیقات اور اس کے پیچھے ملوث افراد کو سزا دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ “ان رپورٹس کی سچائی کی تصدیق کر رہا ہے” جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کالعدم دولت اسلامیہ خراسان شاخ نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

” دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا: “آزادانہ طور پر اور افغان حکام کے ساتھ مشاورت سے، ہم ان رپورٹس کی سچائی کی تصدیق کر رہے ہیں۔”

  افغان طالبان نے کابل پر قبضے سے قبل بین الاقوامی برادری کے ساتھ بات چیت کے دوران اپنی سرزمین پر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور افغان سرزمین سے کسی بھی حملے کو روکنے کا وعدہ کیا تھا، مگر یکھا یہ جا رہا ہے کہ افغان حکومت اپنی اس کمٹمنٹ پر عمل در آمد نہیں کر رہی ہے۔

طالبان کی حکومت اس معاملے میں دباؤ میں دکھائی دیتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ان کیلئے اس طرح کے گروہوں کے ساتھ اپنے نظریاتی اشترکات کو نظر انداز کرکے ان کے خلاف کارروائی کرنا ان کیلئے آسان نہیں ہے، ایسا کرنے کی صورت میں ان کی اپنی صفوں میں انتشار اور بغاوت کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، جس کے پیش نظر طالبان حکومت کھل کر اس معاملے میں یکسو نہیں ہو پا رہی ہے۔

معاملہ صرف داعش کے اندرونی حملوں تک محدود نہیں ہے، افغانستان پر طالبان کے تسلط کے بعد سے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے سرحد پار حملوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جن کی افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں قائم ہیں۔ اس کے علاوہ سرحد پرافغان سیکورٹی اہلکاروں کی پاکستانی فورسز کے ساتھ سرحدی جھڑپیں بھی ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف طالبان نے کابل میں پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان جن ‘مذاکرات’ کیلئے سہولت فراہم کی تھی وہ بھی اب عملاً ناکام ہوگئے ہیں، کیونکہ ٹی ٹی پی نے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کردیا ہے، اس صورتحال میں ہمیں پھونک پھونک کر قدم اٹھانے ہوں گے، خدا نخواستہ کوئی بھی غلط قدم خطے کو دوبارہ بے امنی کی تباہ کن آگ میں دھکیل سکتا ہے۔