حکومت کا چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایک سے ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن فاضل چینی بیرون ملک سے برآمد کرنے کی اجازت دینے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔

حکومت نےاس منظوری سے مل مالکان اور مخلوط حکومت میں شامل اتحادیوں کا ایک اہم مطالبہ پورا کردیا، جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف شوگر ملیں چلنے لگیں گی، وہیں دوسری جانب ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارت خزانہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا، جس میں وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے حکام نے بھی شرکت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں چینی کے موجودہ ذخائر اور نئے شوگرکین کرشنگ سیزن کے آغاز کے تناظر میں حکومت کم سے کم ایک لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دیدے گی۔

یہ بھی پڑھیں:

متنازع ٹوئٹس، اعظم سواتی کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

دوسری جانب وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کے ایک عہدیدار نے نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں یہ تجویز بھی زیرغور آئی کہ ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دے دی جائے، تاہم چینی کی برآمد اور اس کی مقدار کے بارے میں حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

ایک لاکھ ٹن چینی برآمد کرکے مل مالکان کم سے کم 53 ملین ڈالر یا تقریباً 12ارب روپے کما سکیں گے۔ تازہ فیصلہ حکومت کی گزشتہ ہفتے کی پوزیشن سے پسپائی کی نشاندہی کرتا ہے، جب اس نے شوگر مل مالکان کی جانب سے دس لاکھ میٹرک ٹن فاضل چینی برآمد کرنے کا مطالبہ یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ اتنی مقدار میں اندرون ملک چینی کے ذخائر کی موجودگی کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

Related Posts