عیدالفطر پر فطرہ کیوں ادا کیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی کیوں ضروری ہے؟

عیدالفطر پر فطرہ کیوں ادا کیا جاتا ہے اور اس کی ادائیگی کیوں ضروری ہے؟

رمضان المبارک کے ختم ہونے کے بعد مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر عید کا تحفہ دیا جاتا ہے جسے عیدالفطر کہتے ہیں۔

عیدالفطر کا دن خوشیاں باٹنے اور عزیزواقارب سے ملنے کا موقع ہوتا ہے، اس دن تمام مسلمان صاف ستھرا لباس پہن کر نماز عید کا اہتمام کرتے ہیں، ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور دلوں سے تمام گلے شکوے دور کرکے اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ ایک اچھا وقت گزارتے ہیں۔

عید الفطر کو خوشی کا دن کیوں قرار دیا گیا ہے؟

عیدالفطر بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے۔ ایک رمضان المبارک کے روزوں کی خوشی،  دوسری رمضان کی طاق راتوں میں جاگنے کی  خوشی، تیسری نزول قرآن،  چوتھی لیلۃ القدر اور پانچویں اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کے لئے رحمت و بخشش اور عذاب جہنم سے آزادی کی خوشی۔

اس دن کے بارے میں نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی فرمایا کرتے تھے کہ  اس دن غسل کرکے اچھا لباس زیب تن کر کرنا چاہیے۔’

کیا عید کے دن روزہ رکھنا جائز ہے؟

عید کے دن روزہ رکھنا جائز نہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دنوں عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔‘‘

عید الفطر  کے دن کونسے امور  بجالانا مسنون اور مستحب ہیں؟

عید کا دن خوشیوں سے بھرپور ہوتا ہے ، اس دن مندرجہ ذیل امور بجا لانا مسنون و مستحب ہیں:

صبح سویرے اٹھ کر مسواک کرنا، غسل کرنا، کپڑے نئے ہوں ورنہ دھلے ہوئے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، عید گاہ جانے کی تیاری کرنا، نماز عید کیلئے جانے سے قبل چند کھجوریں یا چھوارے کھانا، نماز عید سے پہلے ہی صدقہ فطر ادا کرنا، پیدل عید گاہ کیلئے جانا، ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، نماز عید کیلئے تکبیر تشریق کہتے ہوئے جانا، عیدالضحی میں باآواز بلند جبکہ عیدالفطر میں آہستہ آواز میں کہنی چاہیے اور عید کی نماز کے بعد  سب سے گلے ملنے چاہئیں۔

فطرہ کیا ہوتا ہے؟

 فطرہ  مالی انفاق ہے جس کا حکم حضورنبی اکرم ﷺ نے زکوٰۃ سے پہلے اس سال دیا جس سال رمضان کے روزے  فرض ہوئے۔ یہ غریبوں اور مسکینوں کو دیا جاتا ہے، اس کو فطرانہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا ادا کرنا ہر مالدار شخص کے لئے ضروری ہے تا کہ غریب اور مسکین لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

مزید برآں فطرہ  روزے دار کو فضول اور فحش حرکات سے پاک کرنے کا ذریعہ ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  فرماتے تھے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فطرہ کو اس لئے فرض قرار دیا ہے، کہ یہ روزہ دار کے بے ہودہ کاموں اور فحش باتوں کی پاکی اور مساکین کے لئے کھانے کا باعث بنتا ہے۔

عیدالفطر پرفطرہ  دینا کن پر واجب ہے؟

عیدالفطر پرفطرہ  تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:

’’رسول الله ﷺ نے غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب مسلمانوں پر صدقہ فطر کھجور یا جو کا ایک صاع فرض کیا ہے۔‘‘

اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:

صدقہ فطر ہر تونگر پر (واجب) ہے۔

واضح رہے کہ تونگر ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں، جس پر زکوٰۃ واجب ہو یا اس پر زکوٰۃ تو واجب نہ ہو لیکن اس کے پاس ضروری اسباب (جیسے گھر، کپڑے اور گھر کا سامان وغیرہ) ہو کہ جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ خواہ وہ تجارت کا مال ہو یا نہ ہو اور خواہ اس پر سال گزرے یا نہ گزرے، ایسی صورت میں اس شخص پر صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔

صدقہ فطر کی ادائیگی کیوں ضروری ہے؟

جو مسلمان کسی کی مدد کرتا ہے چاہے وہ کسی بھی صورت میں کی گئی ہو اُس کا بہت زیادہ ثواب ہے اور فطرے کے ذریعے بھی مسلمانوں کو  مسکینوں کی مدد کرنے کا درس دیا گیا ہے، اس کی ادائیگی سے شرعی حکم پر عمل کرنے کا ثواب ملتا ہے، بعض اوقات  مومنین سے روزوں میں کوتاہی ہوجاتی ہے چنانچہ فطرہ روزوں کی کمی کوتاہی سے پاک کرنے کا ذریعے ہے اور اس کو دینے سے عید کے دن ایسے لوگوں کی مدد ہوجاتی ہے جن کے پاس عید کے دن پیسے نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ اسے نماز عید سے پہلے دینے کا حکم ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں