10نوجوانوں کی شہادت اور مسجد پر حملہ سفاکی کی بد ترین مثال ہے، صدر آزاد کشمیر

10نوجوانوں کی شہادت اور مسجد پر حملہ سفاکی کی بد ترین مثال ہے، صدر آزاد کشمیر

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر کے شوپیاں اور پلوامہ کے اضلاع میں بھارتی فوج کے ہاتھوں دس نوجوانوں کی شہادت اور شوپیاں کی جامع مسجد پر فوج کی اندہا دھند فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال سے مسجد کو شہید کرنے کے افسوس ناک واقعہ کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے واقعے کو قابض بھارتی فوج کی سفاکی اور دہشت گردی کی بد ترین مثال قرار دیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ شوپیاں کے افسوس ناک واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کی انتہا پسند فسطائی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہر اس علامت کو مٹانا چاہتی ہے جس کا تعلق اسلام اور مسلمانوں سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے مسلمانوں کے مقدس ترین مقام پر حملہ اور اسکی بے حرمتی کر کے نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو للکارا ہے بلکہ ہندوستان اور پاکستان سمیت پورے عالم اسلام کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھی مجروح کیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

بھارتی فوج کا یہ سفاکانہ اقدام نہ صرف ان کے اخلاقی دیوالیہ پن کا مظہر ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ قابض فوج اپنے اقدامات میں کلی طور پر آزاد اور جوابدہی سے مبرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے اس تازہ اقدام سے یہ بات بھی پوری طرح عیاں ہو چکی ہے کہ بھارتی حکومت بات چیت اور پر امن سیاسی و سفارتی طریقوں سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کو اپنا غلام بنائے رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شوپیاں کی مسجد پر بھارتی فوج کا حملہ اور اسکی بے حرمتی پہلا واقع نہیں بلکہ کشمیر کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے جموں و کشمیر کے عوام کی جائز، منصفانہ اور حق پر مبنی تحریک آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک دبنے کے بجائے ایک نئے جذبے اور طاقت سے ابھرے گی۔

صدر سردار مسعود خان نے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و ستم اور وہاں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا نوٹس لیتے ہوئے بھارتی حکومت کو مقبوضہ کشمیر میں فوجی آپریشن بند کرنے، انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ فی الفور روکنے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے پر مجبور کریں۔