جرمنی کے شہر میونخ کے ایک شہری نے تجسس کے باعث ریڈ کراس کے عطیہ باکس میں ڈالے گئے پرانے کپڑوں اور جوتوں کے سفر کا پتا لگانے کی کوشش کی، جس کے بعد ایک دلچسپ واقعہ سامنے آیا۔
شہری نے اپنے ایک پرانے جوتے میں ایپل ایئر ٹیگ (AirTag) چھپا کر اسے ریڈ کراس کے ڈونیشن باکس میں ڈال دیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ عطیہ کردہ سامان کہاں پہنچتا ہے۔
پانچ روز تک جوتے کی لوکیشن ٹریک کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جرمنی سے نکل کر آسٹریا، سلووینیا اور کروشیا کی سرحدیں عبور کرتا ہوا تقریباً 800 کلومیٹر دور بوسنیا و ہرزیگووینا پہنچ چکا ہے۔
شہری خود بوسنیا پہنچا جہاں اسے ایک سیکنڈ ہینڈ دکان میں اپنا وہی جوتا 10 یورو میں فروخت کے لیے رکھا ہوا ملا۔ اس نے جوتا خرید لیا اور اس پورے سفر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر دی، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ریڈ کراس کو عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ بعض افراد کا خیال تھا کہ عطیہ کیا گیا سامان براہِ راست ضرورت مندوں تک مفت پہنچایا جاتا ہے۔
ریڈ کراس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عطیہ کردہ تمام سامان مفت تقسیم نہیں کیا جاتا، بلکہ تقریباً 10 فیصد سامان ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ باقی سامان فروخت کرکے حاصل ہونے والی آمدنی انسانی فلاحی منصوبوں اور دیگر امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








