عمران خان کی ڈی ایٹ ممالک ویژن کوعملی جامہ پہنانے کیلئے پانچ نکاتی لائحہ عمل کی تجویز

عمران خان کی ڈی ایٹ ممالک ویژن کوعملی جامہ پہنانے کیلئے پانچ نکاتی لائحہ عمل کی تجویز

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ڈی ایٹ کے رکن ملکوں کے ویژن کیلئے پانچ نکاتی لائحہ عمل تجویز کیا ہے۔جس میں کورونا وائرس کے نتیجے میں صحت اور معیشت کو پہنچے والے نقصان کے ازالے کیلئے مالی وسائل کا مفید استعمال شامل ہے۔

دسویں ڈی ایٹ ورچوئل سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے ڈی ایٹ ملکوں کے رہنماؤں کو اس پانچ نکاتی منصوبے پر غور کرنے کی دعوت دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کورونا کی وبا کے پیش نظر ترقی پذیر ملکوں کو درپیش اقتصادی اور مالی مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے کے لئے اس سے متعلقہ امدادی اقدامات کی حمایت کریں۔

وزیر اعظم نے ڈی ایٹ ملکوں کی تجارت کو دو ہزار تیس تک موجودہ سو ارب ڈالر سے بڑھا کر پانچ سو ارب ڈالر تک کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی تجویز دی تا کہ ان کے درمیان تجارت کو وسعت دینے کا ہدف پورا کیا جاسکے۔

انھوں نے کہا کہ اس میں سرحدی معاملات کے طریق کار کو آسان بنانا ادارہ جاتی روابط کو بڑھانا اور نئے اقدامات پر عملدرآمد جیسے اقدامات شامل ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان ڈی ایٹ پے منٹ کارڈ جیسی تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہے جن سے مقامی کرنسیوں میں لین دین ہو سکے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کو ثقافتی،تعلیمی، سائنسی اور تجارتی وفود کے تبادلوں کے فروغ پر توجہ مرکوز کر کے نوجوانوں کی شمولیت کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وظائف ہنر سکھانے،تربیت، فیلو شپس،مشترکہ تحقیق اور خصوصاََ سائنس،ٹیکنالوجی اور ایجادات کے شعبوں میں نوجوانوں کے وفود کے تبادلوں کے ذریعے تعلیمی اداروں کے درمیان روابط قائم کیے جانے چاہئیں۔وزیر اعظم نے علم پر مبنی معیشت کے فروغ، تحقیق اور ترقی کے لئے فنڈز میں اضافے اور تیز تر ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ دینے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی خصوصاََ کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں معاشی خوشحالی کا ذریعہ ہے کیونکہ اب ٹیکنالوجی پر انحصار اس قدر زیادہ ہوگا کہ اس سے پہلے انسانی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔

وزیراعظم نے خوراک کے تحفظ کے فروغ، صحت کے شعبے میں تعاون میں اضافے،کھیلوں کے مشترکہ مقابلوں کے انعقاد اور قدرتی آفات کے دوران ایک دوسرے کی مدد کے ذریعے ڈی ایٹ کو ہمارے شہریوں کی زندگیاں زیاد ہ سے زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ان اہداف کے حصول کیلئے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کی طرف سے پختہ عزم اور مالی وسائل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں