نیویارک: 600 سے زائد آسکر ووٹرز نے ایک کھلے خط پر دستخط کرتے ہوئے اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کی فلسطینی فلم ساز حمدان بلال کے لیے ناکافی حمایت پر شدید مذمت کی ہے۔
بلال کو اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔
حمدان بلال کی سال 2024کی دستاویزی فلم مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے موضوع پر بنائی گئی تھی۔
یہ فلم باسل عدرا (ایک اور فلسطینی ہدایت کار) اور اسرائیلی فلم ساز یوول ابراہام اور ریچل شور کے اشتراک سے بنائی گئی اور بہترین ڈاکیومینٹری کے آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔
احتجاجی خط میں لکھا گیا کہ ہم فلسطینی فلم ساز حمدان بلال پر کیے گئے وحشیانہ تشدد اور غیر قانونی حراست کی مذمت کرتے ہیں۔ بطور فنکارہمیں اپنی کہانیاں سنانے کی آزادی ہونی چاہیے، بغیر کسی خوف کے۔”
خط میں مزید کہا گیا کہ کہ دستاویزی فلم ساز اکثر خود کو خطرے میں ڈال کر دنیا کو حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ اکیڈمی ایک فلم کو ایوارڈ سے نوازے اور چند ہفتوں بعد ہی اس کے ہدایت کار کے دفاع میں ناکام رہے۔
اس احتجاجی مہم میں کئی مشہور اداکاروں اور ہدایت کاروں نے دستخط کیے، جن میں مارک رفیلو، جیویر بارڈم، جان کسیک، سوسن سرینڈنم آسکر یافتہ ہدایت کار الفونسو کیورون اور جوناتھن گلیزرشامل ہیں۔
یاد رہے کہ جوناتھن گلیزر نے 2024 کے آسکر ایوارڈز کے دوران اپنی تقریر میں اسرائیل کے غزہ میں جاری فوجی حملے کی مذمت کی تھی۔
ذرائع کے مطابق پیر کے روز اسرائیلی آبادکاروں نے بلال پر وحشیانہ حملہ کیا جس کے بعد اسرائیلی فوج نے انہیں گرفتار کر لیا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حمدان بلال نے رہائی کے بعد بتایا کہ انہیں اسرائیلی فوجی حراست میں بھی مار پیٹ کا نشانہ بناتے رہے۔
اکیڈمی نے ایک وضاحتی بیان میں کہاکہ ہم اکثر سماجی، سیاسی اور اقتصادی حالات پر بات کرنے کے لیے کہا جاتا ہے لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اکیڈمی کے تقریباً 11000 ارکان مختلف خیالات رکھتے ہیں۔
احتجاج کرنے والے اکیڈمی ممبران نے کہا کہ یہ بیان مبہم تھا اور اس میں نہ تو بلال کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی فلم کا۔جمعہ کی رات اکیڈمی کے صدر بل کریمر اور جینیٹ یانگ نے بالآخر تسلیم کیا کہ وہ بلال اور ان کی فلم کا ذکر نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ ہم حمدان بلال اور ان تمام فنکاروں سے معذرت خواہ ہیں جو ہمارے بیان میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے تھے۔ ہم دنیا میں ہر جگہ اس قسم کے تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور آزادیِ اظہار کے ہر طرح کے جبر کو مسترد کرتے ہیں۔