سرکاری ملازمین اپنے مطالبات منوانے پارلیمنٹ ہاؤس ریڈ زون میں داخل ہوگئے

سرکاری ملازمین اپنے مطالبات منوانے پارلیمنٹ ہاؤس ریڈ زون میں داخل ہوگئے

اسلام آباد:سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے اور الاؤنسز میں تفریق کا معاملہ مسلسل نظر انداز کئے جانے پر ملک بھر کے سرکاری م ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے دیا۔

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین پولیس کی جانب سے لگائی گئی تمام رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوگئے جبکہ پولیس اور سول انتظامیہ انہیں روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔

اپوزیشن ارکان بھی مظاہرین کے ساتھ اظہاریکجہتی کیلئے دھرنے میں پہنچ گئے، اپنی تقاریر میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرے میں وفاقی ملازمین کی19تنظیموں نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین کا کہنا ہے تھاکہ ہماری پینشن اورالاؤنسز ختم نہ کی جائے، ہمارا معاشی قتل بند کیاجائے، مہنگائی کے حساب سے تنخواہوں میں اضافہ کیاجائے، ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں کئے جاتے تب تک پارلیمنٹ کے سامنے ہمارا دھرنا جاری رہے گا۔

سرکاری ملازمین سے اظہاریکجہتی کیلئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف،پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر اور فیصل کریم کنڈی، جے یو آئی ف کے رہنما عبدالغفور حیدری اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے خطاب کیا۔

اس موقع پر خواجہ محمد آصف نے کہاکہ ہم اسمبلی میں آپکی آواز بنیں گے،خصوصاً آپ جو لوگ کے پی کے سے آئے ہیں جہاں عمران خان کی حکومت ہے، 7سال سے تنخواہوں میں اضافے کے منتظر ہیں،پاکستان کی اس ظالم حکومت سے جب تک نجات نہیں ملتی جدوجہد جاری رہے گی۔

اس موقع پر فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ ہم ملازمین کے ساتھ ہرطرح کی یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں،پیپلز پارٹی نے ملازمین کو پہلے بھی حقوق دلوائے،ملازمین کے جائز مطالبات ہر صورت منظور ہونے چاہئیں۔

جے یو آئی ف کے رہنما عبدالغفور حیدری نے کہاکہ حکومت نے ملازمین کی پر امن ریلی کو خطرہ قرار دیا ہے،ملازمین کے دھرنے کو میڈیا پر نہیں دکھایا جارہا،حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھالیکن اب لاکھوں لوگوں کو بیروز گار کیا جارہا ہے،لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ڈوب مرنا چاہیے،عمران خان کی تو اب پارلیمنٹ میں بھی اکثریت نہیں رہی لیکن عمران خان پھر بھی حکومت کو چمٹا ہوا ہے اگر کوئی ان کو آئینہ دکھائے تو یہ بغاوت کے پرچے کٹواتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں