ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا پٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے؟
ماہر معاشیات ڈاکٹر خاقان نجیب نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی توانائی کے لیے بیرونی انحصار ملک کو مسلسل مہنگے ایندھن کا شکار بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ماضی میں مقامی توانائی، ریفائنریز اور متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری کی جاتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پٹرول پر بھاری لیوی اور دیگر ٹیکس عائد ہیں، جبکہ عالمی حالات مزید خراب ہوئے تو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق اگر حکومت نے قلیل مدتی فیصلوں کے بجائے طویل مدتی توانائی پالیسی اختیار نہ کی تو آئندہ برسوں میں بھی عوام کو مہنگے پٹرول اور ڈیزل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ملک میں ریفائننگ صلاحیت بڑھائی جائے، مقامی توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے اور ٹیکس ڈھانچے میں اصلاحات کی جائیں تاکہ پٹرولیم مصنوعات پر عوام کا بوجھ کم ہو سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








