اسرائیلی انتخابات اور ایران پر متوقع حملہ

تازہ ترین

تازہ ترین

مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جس کے اثرات صرف ایران، اسرائیل اور فلسطین تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی امن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔ فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے خطے کے سیاسی توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ جنگ بندی اور سفارتی رابطوں کے باوجود کشیدگی کا سلسلہ نہ صرف برقرار ہے بلکہ اکتوبر کے آخری ہفتے میں سامنے آنے والی اطلاعات نے ایران پر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائیوں کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

اس بحران کے دوران اسرائیل کے انتخابات بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 77.7 فیصد رہی، جو 1999 کے بعد انتخابات کی بلند ترین شرح ہے۔ ابتدائی نتائج اور ووٹوں کی گنتی سے ظاہر ہوا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں پیچھے ہے۔ دوسری جانب مخالف جماعتوں کو بھی حکومت سازی کے لیے فلسطینی نژاد اسرائیلی شہریوں کی نمائندہ جماعتوں کی حمایت درکار ہو سکتی ہے۔ اس صورتِ حال نے اسرائیلی سیاست میں نئی صف بندیوں کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔

انتخابات سے پہلے نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنایا اور ایران کے خلاف کارروائی کو اپنی حکومت کے مستقبل سے جوڑا۔ ٹرمپ نے بھی اسرائیلی وزیراعظم کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے خلاف شروع کیے گئے فوجی مشن کو مکمل کرنے کی بات کی۔ اس طرح ایران کا معاملہ محض ایک خارجہ پالیسی کا تنازعہ نہیں رہا بلکہ اسرائیل کے اندر انتخابی سیاست اور امریکی قیادت کے لیے بھی اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے اور محسوس ایسا ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد امریکا اور اسرائیل نے ایران پر نئے حملے کا فیصلہ کر لیا ہے ، جس کی تصدیق اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔

اسرائیل پر نیتن یاہو وزیراعظم کے طور پر حکمرانی کریں یا کوئی اور، فلسطینی مسئلے کے بنیادی سوالات اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع، زمینوں پر قبضے، غزہ میں انسانی تباہی اور فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی مسلسل خلاف ورزیوں سے متعلق خدشات کسی ایک حکومت تک محدود نہیں۔ نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحادیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق اور غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی جیسی صیہونی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی حزبِ اختلاف میں بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والی جماعتیں موجود ہیں۔ اس لیے نیتن یاہو کی سیاسی کمزوری کو خودبخود فلسطینیوں کے لیے انصاف کی فتح قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ نئی حکومت قبضے، غیر قانونی بستیوں اور فلسطینی شہریوں کے حقوق کے بارے میں کیا عملی پالیسی اختیار کرتی ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کو امریکا اور اسرائیل نے جنگ کی بنیادی وجوہات میں شامل قرار دیا اور واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد سے منسلک کرتاہے۔ ایران کی افزودہ یورینیم کی مقدار، اس کی نگرانی اور مستقبل کے جوہری معاہدے پر اختلافات سفارتی کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا مقصد صرف عالمی سلامتی کا تحفظ ہے، یا اس تنازعے میں علاقائی طاقت کے توازن اور اسرائیل کی عسکری برتری کے تحفظ کا پہلو بھی شامل ہے؟ اس سوال کا جواب صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ تمام فریقوں کے جوہری پروگراموں، بین الاقوامی نگرانی اور یکساں اصولوں کی بنیاد پر تلاش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے نظام کی حمایت کریں جس میں کسی ایک ریاست کو غیر معمولی استثنا حاصل نہ ہو اور تمام ممالک پر بین الاقوامی قانون کا یکساں اطلاق ہو۔

امریکا کی پالیسی پر بھی یہی سوال اٹھتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کی عسکری مداخلت امریکی عوام کے مفادات کو کس حد تک پورا کرتی ہے۔ کونسل برائے خارجہ تعلقات کے بجائے امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ یکم اگست 2026 تک ایران جنگ پر امریکی محکمۂ دفاع کے اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ مسلسل فوجی کارروائیوں کے اخراجات اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر دباؤ امریکی شہریوں کے لیے بھی معاشی سوالات پیدا کرتے ہیں اور آج امریکی تجزیہ کار اور خود امریکی عوام بھی یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر حملہ امریکی عوام کی سلامتی کے تحفظ کیلئے تھا یا صرف اسرائیل کے تحفظ اور جنگی جنون کو ہوا دینے کیلئے؟ کیونکہ امریکی عوام کی سلامتی کو ایران سے کوئی خطرہ نہیں تھا، یہ صرف امریکی عوام کو نہیں بلکہ پوری دنیا کو نظر آرہا ہے۔

ایران جنگ نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو بری طرح متاثر کیا اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں کے خدشات نے ایندھن، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا کردی۔ ایران پہلے ہی پابندیوں اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا تھا، جبکہ جنگ نے اس کی معیشت کو مزید نقصان پہنچایا۔ پاکستان کے لیے یہ بحران خصوصی اہمیت کا حامل اس لیے بھی ہے کیونکہ خطے میں طویل جنگ تیل کی قیمتوں، درآمدی بل اورمہنگائی کو بڑھا کر معاشی استحکام کو متاثر کرسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی ریاستوں کے درمیان کشیدگی پاکستان کی سفارتی اور سلامتی کی ترجیحات کو بھی متاثر کرتی ہے۔

امریکا اور اسرائیل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مستقل سلامتی صرف فضائی حملوں، فوجی برتری یا مخالف ریاستوں کو کمزور کرنے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ ایران کو بھی ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں مزید تصادم کو جنم دیں۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق جنگ بندی کا احترام کریں، جوہری تنازعے پر قابلِ تصدیق معاہدے کی طرف بڑھیں، آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنائیں اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق و حقِ خودارادیت کو مذاکرات کا لازمی حصہ بنائیں، کیونکہ مزید خونریزی کسی ایک ملک کی فتح نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے بھاری اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

Related Posts