صحافی فرحان ملک کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

Court approves 5-day physical remand of journalist Farhan Malik
FILE PHOTO

کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت نے صحافی فرحان ملک کا ایک اور مقدمے میں 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صحافی فرحان ملک کو آج جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں ایک علیحدہ مقدمے میں پیش کیا، جہاں ایف آئی اے کے حکام اور فرحان ملک کے وکیل عدالت میں موجود تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ 25 مارچ کو گلشن اقبال میں ایک کال سینٹر پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے دو ملزمان، عطار حسین اور حسن نجیب کو گرفتار کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق گرفتار ملزمان غیر ملکی شہریوں سے دھوکہ دہی میں ملوث تھے اور مخصوص سافٹ ویئرز کی مدد سے ان کے خفیہ ڈیٹا تک رسائی حاصل کر رہے تھے۔ مزید کہا گیا کہ یہ افراد فراڈ اور دھوکہ دہی کے ذریعے غیر ملکیوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ یہ سرگرمیاں فرحان گوہر ملک کی ہدایات پر انجام دی جا رہی تھیں۔ اس بیان کی بنیاد پر عدالت نے فرحان ملک کو اسی کیس میں 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرحان ملک کے وکیل معیز جعفری نے دعویٰ کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمہ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک روز قبل جب فرحان ملک کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا، تاخیر کی گئی اور اسی دوران صبح 9 بجے ایک نیا مقدمہ درج کر کے دو افراد کو نامزد کیا گیا۔

وکیل معیز جعفری نے مزید کہا کہ جب عدالت نے فرحان ملک کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھیجنے کا حکم دیا، تو اسی وقت ایک اور جھوٹا مقدمہ قائم کر دیا گیا۔

انہوں نے ایف آئی اے پر الزام لگایا کہ ادارے نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرحان ملک کو غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا، جبکہ قانونی طور پر کسی قیدی کو دوسرے مقدمے میں گرفتار کرنے سے قبل جیل حکام کو مطلع کرنا ضروری ہوتا ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل ایف آئی اے نے فرحان ملک کو پیکا قوانین کے تحت حراست میں لیا تھا لیکن گزشتہ روز عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جیل بھجوانے کا حکم دیا تھا۔

Related Posts