روس کا یوکرینی علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کرنا جنگ کا بہانہ ہے۔امریکا

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

روس کا یوکرینی علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کرنا جنگ کا بہانہ ہے۔امریکا
روس کا یوکرینی علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کرنا جنگ کا بہانہ ہے۔امریکا

نیو یارک: امریکا کا کہنا ہے کہ یوکرین کے علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کرنا روس کا جنگ کیلئے بہانہ ہے جبکہ مشرقی یوکرین میں قیامِ امن کی کارروائی کی باتیں بے بنیاد ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے 15 رکنی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کے اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ یورپ، یوکرین اور پوری دنیا کو نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:

صدر پیوٹن کا بڑافیصلہ، روس نے یوکرین کے 2علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا

امریکا نے الزام عائد کیا تھا کہ روس نے یوکرین کی سرحدوں کے قریب ڈیڑھ لاکھ فوج حملے کیلئے تعینات کی ہے جس کے بعد کچھ روز سے ماسکو اور مغربی ممالک کے مابین کشیدگی جاری ہے۔ روس نے یوکرین پر حملے کی خواہش کی تردید کی ہے۔

سکیورٹی کونسل میں گفتگو کے دوران امریکی سفیر نے کہا کہ روسی صدر نے علیحدگی پسند علاقوں کو تسلیم کیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ بات یہاں رک جائے گی۔ 2014 اور 2015 میں علیحدگی پسندی کے خلاف تنازعات کے خلاف معاہدے ہوئے تھے۔

روسی صدر نے مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونباس میں فوج کی تعیناتی کا حکم بھی دیا۔ اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر واسیلی نیبنزیا کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے ذریعے سفارت کاری کے راستے کھلے ہیں تاہم ہمارا نئی خون کی ہولی کی اجازت دینے کا ارادہ نہیں۔

چینی سفیر ژانگ جون کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو کشیدگی کو ہوا دے۔ چین سفارتی حل کیلئے کی گئی ہر کوشش کا خیر مقدم اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ 

 

Related Posts