یوکرین پر تابڑ توڑ حملے، روسی فوج بندرگاہی شہر خیرسون میں داخل ہوگئی

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

کیف: روسی فوج یوکرین پر حملے کے بعد بندرگاہی شہر خیرسون میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی، میئر نے تصدیق کردی۔

خیرسون کے میئر کا کہنا ہے کہ روسی فوجی خیرسونمیں موجود ہیں اور کونسل کی عمارت میں داخل ہوکر قبضہ کرلیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے کونسل پر قبضے کے بعد کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔

خیرسون اسٹراٹیجک طور پر اہم شہر سمجھا جاتا ہے اور بلیک سی اور دریائے نیپر پر ایک اہم بندرگاہ ہے۔ روس کی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ روسی فوج نے بلیک سی کے ساحل پر واقع خرسون شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔ خیرسون کی آبادی 5 لاکھ ہے اور یہ روسی فوج کے قبضے میں آنے والا اب تک کا سب سے بڑا شہر ہے۔

دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زویلنسکی کے مشیر کاکہنا ہے کہ خیرسون شہر کا دفاع جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہاکہ آج شہر کی ایگزیکٹو کونسل میں مسلح افراد موجود تھے لیکن ہماری طرف سے جارحیت کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی

واضح رہے کہ روس کے حملے کے بعد یوکرین میں مہاجرین کا بحران سنگین شدت اختیار کرگیاہے، اقوام متحدہ کے مطابق اب تک چھ لاکھ ساٹھ ہزار شہری ملک سے باہر روانہ ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر انسانی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔روس یوکرین جنگ سے عام شہری شدید متاثر ہیں ور جان بچانے کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ اب تک 6 لاکھ 60 ہزار افراد یوکرین سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ پناہ گزینوں میں عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

Related Posts