اُس رات جیل کی فضاؤں پر عجیب سا گھٹن بھرا ماحول طاری تھا۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جب قیدی نمبر 1772 کو جگانے کے لیے پہنچا تو 12 بائے 7 کے سیل میں زمین پر بچھے گدے پر لیٹے قیدی نے کوئی جواب نہ دیا۔
قیدی ایک بج کر 10 منٹ پر گدے سے اٹھا۔ اس کے اٹھتے ہی ایک ہلچل مچ گئی۔قیدی کو لینے کے لیے آنے والوں پر بھی لرزہ طاری تھا۔
چار افراد اس چھوٹے سے سیل میں داخل ہوئے۔ قیدی پر نقاہت طاری تھی۔ وہ چاہنے کے باوجود اپنی وصیت نہ لکھوا سکا۔
پورے عالمِ اسلام کا نمائندہ، دنیا کا بااثر ترین مسلم لیڈر اور پاکستان کا سب سے مقبول سیاستدان… سیل سے 250 فٹ دور پھانسی گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے بالکل خاموش تھا۔
جسم میں کمزوری واضح تھی، لیکن چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسے ہر صورت میں موت دی جانی ہے۔اس کے قدموں کی آہٹ سننے والوں پر ہیبت طاری کر رہی تھی۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے جیل حکام جلد از جلد اسے پھانسی دے کر اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہیں۔
اس نے پھندا گلے میں ڈالا اور جلاد سے کہا، “فنش اِٹ!”اور جلاد تارا مسیح نے لیور کھینچ کر دنیا کے سب سے طاقتور مسلمان لیڈر کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔
یہ کہانی ہے 4 اپریل 1979 کی، جب پاکستان کے مقبول ترین سیاسی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر بظاہر تو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، لیکن تاریخ میں یہ نام ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
پاکستان کو دنیا میں عزت اور وقار دلوانے والا، عالمِ اسلام کو ایک لڑی میں پرو کر متحد کرنے والا ذہین، بااثر اور قابل سیاستدان ایسی موت کا شکار کیوں اور کیسے ہوا؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔لیکن آگے بڑھنے سے پہلے، اُن لوگوں کے لیے جو بھٹو صاحب سے ناواقف ہیں، اُنہیں بھٹو صاحب کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد سر شاہ نواز بھٹو، حکومتِ بمبئی کے مشیر اعلیٰ اور ریاست جوناگڑھ کے دیوان تھے۔بھٹو صاحب نے دسمبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔
دسمبر 1971 سے 1973 تک وہ صدرِ پاکستان رہے۔بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین دیا اور اسی آئین کے تحت 14 اگست 1973 کو وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
تو چلیں، اب آپ کو بھٹو صاحب کی پھانسی کی طرف لے کر چلتے ہیں۔
بھٹو صاحب کے عدالتی قتل کے بارے میں تو آپ نے اکثر سنا ہوگا، لیکن آج ہم آپ کو بھٹو کے عدالتی قتل کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں بتانے جا رہے ہیں جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنی ہوں۔
جنرل ضیا نے بھٹو کو موت کے پھندے تک پہنچایا۔جنرل ضیا الحق کون تھے؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
جنرل ضیا وہ آرمی چیف تھے جنہیں بھٹو صاحب نے 6 سینئر جرنیلوں پر ترجیح دے کر خود آرمی چیف بنایا تھا۔ یہی فیصلہ بعد میں ان کی جان لینے کا سبب بنا۔
بھٹو اور جنرل ضیا کے درمیان تعلقات ابتدا میں خوشگوار تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دوریاں بڑھتی گئیں، یہاں تک کہ یہ دوستی خطرناک دشمنی میں بدل گئی۔
5 جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔اب بات کرتے ہیں بھٹو صاحب کی پھانسی کی۔
18 مارچ 1978 کو لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی۔
یہ واقعہ 11 نومبر 1974 کو لاہور میں پیش آیا۔ بھٹو کی اپنی پارٹی کے باغی رکنِ قومی اسمبلی احمد رضا قصوری کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی، احمد رضا تو بچ گئے لیکن ان کے والد نواب احمد خان قصوری گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
قصوری نے اپنے والد کے قتل کے مقدمے میں اُس وقت کے وزیراعظم بھٹو کو نامزد کر دیا۔چونکہ بھٹو وزیراعظم تھے، لہٰذا اس وقت معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا، لیکن 5 جولائی 1977 کو جب جنرل ضیا نے مارشل لا نافذ کیا تو یہ مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا۔
3 ستمبر کو بھٹو کو رات کے اندھیرے میں 70 کلفٹن سے گرفتار کر لیا گیا۔یہ مقدمہ ٹرائل کورٹ میں چلنا چاہیے تھا، لیکن قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مولوی مشتاق حسین نے مقدمہ براہِ راست لاہور ہائی کورٹ منتقل کر دیا۔
اب ہم آپ کو اس اہم کردار سے ملواتے ہیں جس کا کردار بھٹو کو پھانسی تک پہنچانے میں کلیدی تھا، اور وہ تھا مولوی مشتاق۔
مولوی مشتاق حسین لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج تھے۔ وہ سخت مزاج اور انا پرست مشہور تھے، اور بھٹو کے ساتھ اُن کی پرانی چپقلش تھی۔
بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں مولوی مشتاق کو چیف جسٹس بننے سے روک دیا تھا، جس کا انہیں شدید رنج تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ سپریم کورٹ جانے سے بھی گریزاں رہے۔
جنرل ضیا نے اسی رنجش کا فائدہ اٹھایا اور انہیں بیرونِ ملک سے بلا کر قائم مقام چیف جسٹس بنا دیا، جو ان کی دیرینہ خواہش تھی۔
حلف اٹھاتے ہی مولوی مشتاق نے بھٹو کے خلاف پانچ رکنی بینچ تشکیل دیا۔اس بینچ میں بھٹو کے حمایتی ججوں کو شامل ہی نہیں کیا گیا۔18 مارچ 1978 کو لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔
بھٹو نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی۔6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
مولوی مشتاق کی موت کے بعد ان کے جنازے پر شہد کی مکھیوں کے حملے کا واقعہ بھی مشہور ہے، جسے بعض لوگ قدرت کا انتقام کہتے ہیں۔
اداکار شاہد کے مطابق، مکھیوں نے جنازے میں شریک ججوں، حتیٰ کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کو بھی کاٹا، اور لوگ جنازہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے خود تسلیم کیا ہے کہ بھٹو کو ’فیئر ٹرائل‘ نہیں ملا۔
شاید اسی دن کے لیے بھٹو نے اپنے خاندان کو رحم کی اپیل نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔بھٹو نے کہا تھا:”میں ضیاء کے ہاتھوں معافی لے کر تاریخ کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا، بلکہ پھانسی چڑھ کر تاریخ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں۔”اور آج وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ بھٹو آج بھی تاریخ کے اوراق پر زندہ ہے۔