پاکستان ریلوے نے 230 مسافر کوچز حاصل کرنے کے منصوبہ بنالیا

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت 230 مسافر کوچز اور 820 بوگیوں کے حصول کے منصوبے کو حتمی شکل دیدی ہے۔

اس اقدام کا مقصد ٹرینوں کی رفتار کو بہتر بنانے اور مقررہ اوقات کی پابندی کو یقینی بنانا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق اب تک تقریباً 46 مکمل طور پر بلٹ اپ (CBU) مسافر کوچز خریدی جا چکی ہیں جبکہ باقی 184 کوچز ملک میں تیار کی جائیں گی ، منصوبے کا مقصد 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ریلویز ٹریکس کی بحالی اور تعمیر نو کے کام کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ انجنوں کی رفتار کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کررہا ہے تاکہ مسافروں کو وقت پر ان کی متعلقہ منزلوں تک پہنچایا جا سکے۔

حکام نے مزید بتایا کہ انفرااسٹرکچر بشمول کراچی سے پشاور تک ٹریک اور سگنل سسٹم، مین لائن-I ML-Iاور لاہور سے پشاور (462.20 کلومیٹر) تک ٹریک کو ڈبل کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریک کی لمبائی 1,726 کلومیٹر تھی اور محکمہ نے چین-پاک اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت ML-I کی اپ گریڈیشن کے منصوبے میں رفتار کو 160 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت جو رولنگ اسٹاک خریدا جا رہا ہے وہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کے قابل ہو گا جبکہ محکمہ کے پاس 4000-4500 HP کے 55 ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹیوز کا ایک مخصوص بیڑا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نقل و حمل کو پورا کیا جا سکے۔ رفتار

کمپیوٹر بیسڈ انٹر لاکنگ (سی بی آئی) سسٹم ML-I کے 48 اسٹیشنوں پر نصب کیا گیا ہے، تاکہ تیز رفتاری اور ٹرین آپریشن کی حفاظت کے لیے سگنل اور انٹر لاکنگ کو بہتر بنایا جا سکے۔