بھارت:توہین رسالت کمنٹ: اصل کہانی کیا ہے ؟

بھارت:توہین رسالت کمنٹ: اصل کہانی کیا ہے ؟

بھارت میں شدت پسند ہندوﺅں کی طرف سے متواتر اسلام ، اسلامی شعار اور مقدس دینی شخصیات کی توہین کی کوششیں عرصے سے جاری ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی بدبخت ہندو جوگی یا پنڈت اٹھ کر اپنا زہر اگل دیتا ہے۔چند دن پہلے ہونے والے ایک واقعے نے البتہ بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ۔ حکمران جماعت بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی پچھلے کئی برسوں میں پہلی بار شدید مشکلات اور دباﺅ کا شکار ہونے جارہے ہیں۔ اس بار یہ دباﺅ بھارت کے باہر سے آیا ہے۔

توہین رسالت کے حالیہ واقعہ پرقطر، سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، اومان ، ایران وغیرہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ دراصل ان بے ہودہ ، فضول کلمات نے عرب دنیا میں مسلمانوں کے جذبات کو اس انداز میں تڑپایا اوردہلایا کہ ان کا سارا غم وغصہ بھارتی حکومت اور بھارت کے خلاف نکلا۔

دراصل حکمران جماعت بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما نے معروف بھارتی ٹی وی چینل ٹائمز ناﺅ کے ایک پروگرام میں نہایت دریدہ دہنی سے توہین رسالت پر مبنی کمنٹس دئیے۔ نوپور شرما کے ان کمنٹس پر بھارت میں شدید ردعمل آیا۔ مسلمان تنظیموں نے احتجاج کیا اور کم از کم دو مختلف جگہوں پر اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔

نوپور شرما بی جے پی کی معروف خاتون رہنما ہے اور اس کی حیثیت پارٹی کی آفیشل ترجمان کی رہی ہے۔ نوپورشرما کے ساتھ بی جے پی کے ایک اور اہم رہنمانوین کمال جندال نے بھی گستاخی رسولﷺ پر مبنی کمنٹس دئیے۔ حیرت کی بات ہے کہ نوپورشرما اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت ہے، لندن سکول آف اکنامکس سے اس نے ایل ایل ایم کر رکھا ہے، مگر تعلیم بھی اس کے خبث باطن ، نفرت اور زہریلی سوچ کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔

بی جے پی رہنماﺅں کی جانب سے توہین رسالت کے واقعے کو بھارتی صحافی اورمعروف فیک چیکر محمد زبیر نے بھرپور طریقے سے ٹوئٹر پر اٹھایا۔ محمد زبیر ایک نان پرافٹ فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے سربراہ ہیں۔ زبیر نے ہی اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے ان متنازع بیانات کو ہائی لائیٹ کیا اور وہ مسلسل اس حوالے سے بھرپور رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بی جے پی اور دیگر شدت پسند ہندو تنطیموں کی جانب سے زبیر کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، اس پر مقدمات درج ہوئے اور ہندو جوگی اسے دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔

بی جے پی حکومت نے اپنی روایت کے مطابق اپنے ان لوگوں کوبچانے کی کوشش کی اور عوامی ردعمل کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا۔ تاہم یہ معاملہ عرب دنیا میں جب نمایاں ہوا اور عرب سوشل میڈیا نے اسے ٹرینڈ بنا کر بھارت کے خلاف عوامی غم وغصہ کا مظاہرہ کیا تو عرب حکومتوں کو بھی سختی سے یہ معاملہ اٹھانا پڑا۔ پچھلے چند دنوں سے عرب سوشل میڈیا میں یہ ٹرینڈ بن چکا ہے، ”الا رسول اللہ یامودی “اس وقت سب سے بڑا ٹرینڈ ہے۔ یعنی اے مودی رسول اللہﷺ کے خلاف کچھ نہیں کہنا۔

عرب دنیا کے سوشل میڈیا میں احتجاج اور مذمت کے ساتھ بھارتی پراڈکٹ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ لوگ مختلف بھارتی پراڈکٹ کی تصاویر لگا کر یہ ٹوئٹ اور فیس بک پوسٹیں کر رہے ہیں کہ جب تک بھارتی حکومت توہین کرنے والوں کوسزا نہیں دیتی اور اس گستاخی پر معافی نہیں مانگتی، تب تک بائیکاٹ جاری رکھا جائے۔ کئی عرب ممالک میں کچرے والے ڈبوں اور کنٹینرز پر مودی کی تصویر لگا کر اس پر جوتے کا نشان بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کسی عرب ملک میں بھارت یا بھارتی پراڈکٹ کے خلاف ایسا شدید ردعمل پہلی بار ہوا۔

عرب عوام کے ساتھ عرب حکومتوں کا ردعمل بھی تیز ہے۔ قطر حکومت نے بڑا سخت ردعمل دیا اور بھارتی حکومت سے اس پر باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی، سعودی حکومت کی مذمت زیادہ تند وتیزلفظوں پر مشتمل تھی، دوسری طرف کویت، ایران میں بھی حکومتوں نے بھارتی سفیرکو بلا کر احتجاج کیا ہے۔ سوشل میڈیا ٹرینڈ اردن اور مصر تک میں پھیل چکا ہے۔

بھارتی حکومت نے ابتدا میں بے نیازانہ رویہ اپنانے کی کوشش کی۔ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی جانب سے احتجاجی بیان کو بھارتی وزارت خارجہ نے سختی سے مسترد کر دیا۔ تاہم عرب حکومتوں اور عرب دنیا میں بھارتی پراڈکٹ کے سوشل بائیکاٹ کی دھمکی نے حکمران جماعت بی جے پی کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ پیر کو بی جے پی نے توہین رسالت کے ایک مجرم نوین جندال کو پارٹی سے نکال دیا جبکہ نوپور شرما کی پارٹی رکنیت معطل کر دی، اب وہ پارٹی کی آفیشل ترجمان نہیں رہی۔

نوپورشرما کے خلاف مقدمات بھی درج ہوگئے ہیں، ممکن ہے اسے کسی مرحلے پر گرفتار بھی کر لیا جائے۔ ان دونوں سیاہ بختوں نے اپنے توہین آمیز بیانات واپس لینے کا اعلان کیا ہے اور یہ بہانہ بنایا کہ ہمارے کمنٹس کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا، تاہم یہ کمزور عذر خود بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا مسترد کر چکا ہے

اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نوپور شرمایا پھر نوین جندال کے ایسے توہین آمیز بیانات کسی فرد کی رائے نہیں بلکہ یہ ایک منظم مہم کا حصہ ہے۔ بی جے پی اور دیگر شدت پسند ہندو تنظیمیں، ہندو مذہبی رہنما پچھلے چند برسوں سے مسلسل مسلمانوں کے جذبات مجروح کر رہے ہیں، ان کے دینی شعار کو نشانہ بناتے اور تمسخر اڑانے کا کوئی موقعہ ضائع نہیں جانے دیتے۔

ایسا ہی ایک کربناک واقعہ صرف پانچ چھ ماہ قبل بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہری دیوار میں ہواجب وہاں ایک ہندو مذہبی تہوار میں اعلان کیا گیا کہ ہم بھارت سے مسلمانوں کی نسل کشی کریں گے۔ اس کھلم کھلا زہریلے اور نفرت انگیز بیان سے بھارتی مسلمانوں میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی، عوامی احتجاج بھی ہوا، مگر اس ہندو سوامی کو گرفتار کر کے مقدمہ نہیں چلایا گیا۔

معروف بھارتی مسلمان اداکار نصیرالدین شاہ نے بھی اس پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ یہ دراصل خانہ جنگی کرانے کا منصوبہ ہے۔ نصیرالدین شاہ نے کہا کہ بیس کروڑ مسلمان یوں ہتھیار نہیں ڈال سکتے، یہ لڑیں گے اورڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یاد رہے کہ نصیرالدین شاہ ایک غیر مذہبی سیکولر شخص ہیں، مگر مسلمانو ں کے حق میں ان کے بیانات کی وجہ سے ہندو تنظیمیں ا ن کے خلاف بھی مہم چلائے رکھتی ہیں۔

ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بھارتی حکمران جماعت اورشدت پسند ہندو لابی مسلمان مخالف جذبات مزید بڑھانا چاہتی ہے،ماضی میں بھی مودی حکومت کا یہ پسندیدہ حربہ رہا ہے کہ ایسا کر کے الیکشن جیت لیا جائے۔ اگر یہ بات درست ہے تو خدانخواستہ ایسی مذموم کوششیں مزید ہوسکتی ہیں۔

البتہ عرب دنیا میں مسلمانوں نے بھرپور سوشل بائیکاٹ کر کے بھارت پر شدید دباﺅ بڑھایا اور انہیں پسپا ہونے اور دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کر دیا۔ اگر مسلم دنیا متحد اور یکسو ہو کر ایک مضبوط موقف اپنائے تو ایسی ہر کوشش ناکام ہو سکتی ہے۔ سردست دریدہ دہن ہندو رہنماﺅں کا پہلا حملہ تو پسپا ہوگیا۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں