آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جورجیوا نے کہا ہے کہ امریکا کے نئے ٹیرف واضح طور پر عالمی منظرنامے کے لیے ایک نمایاں خطرہ کی نمائندگی کرتے ہیں، واشنگٹن سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے۔
یہ بیان آئی ایم ایف کی سربراہ کی جانب سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تازہ عالمی ٹیرف پالیسی کے بعد آیا ہے جس نے ایک تجارتی جنگ کو مزید تیز کردیا ہے جس سے بہت سے لوگوں کو خوف ہے کہ یہ عالمی کساد بازاری کو دعوت دے گی اور مہنگائی کو بڑھائے گی۔
آئی ایم ایف کے سربراہ نے ایک بیان میں کہاکہ یہ ٹیرف اس وقت عالمی منظرنامے کے لیے واضح طور پر ایک نمایاں خطرہ کی نمائندگی کرتے ہیں جب ترقی سست روی کا شکار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ضروری ہے کہ ایسے اقدامات سے بچا جائے جو عالمی معیشت کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ہم امریکا اور اس کے تجارتی شراکت داروں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تجارتی کشیدگی کو حل کرنے اور عدم یقینی صورتحال کو کم کرنے کے لیے تعمیری انداز میں کام کریں۔
واشنگٹن میں قائم اس ادارے نے جنوری میں کہا تھا کہ اس سال عالمی ترقی کی شرح 3اعشاریہ 3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے جو کہ 21ویں صدی کے پہلے دو دہائیوں میں اوسط عالمی ترقی کی شرح 3اعشاریہ 7 فیصد سے کم ہے۔
آئی ایم ایف اس مہینے کے آخر میں اپنا نیا منظرنامہ شائع کرے گا، جس کی تیاری بہار کی میٹنگز کے لیے کی جا رہی ہے جس میں امریکہ کی غیرمعمولی تجارتی ٹیرف پالیسی ایجنڈے پر اہم موضوع ہوگی۔