دہشت گردی کے واقعات اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں، محمد حسین محنتی

 جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے مستونگ میں خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مذمتی بیان میں محمد حسین محنتی نے کہا کہ ایک دن میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات کا ہونا اور درجنوں انسانی جانوں کا ضیاع کھربوں روپے سیکیورٹی پر خرچ کرنے والے حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

کیا راکھی ساونت واقعی مسلمان ہوگئی ہیں؟ ثنا خان کنفیوز

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہمیشہ یہی راگ الاپا جاتا رہا کہ دہشتگردوی کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے، لیکن کئی آپریشن، لاکھوں لوگوں کو بے گھر کرنے کے بعد آج بھی فاٹا اور بلوچستان دہشتگردی کی آگ میں جل رہے ہیں، جبکہ نگراں وزیراعظم سیر سپاٹوں میں مصروف اور اپنے آقاﺅں کے سیاسی ایجنڈا کو مکمل کرنے کیلئے مصروف ہیں۔
محمد حسین محنتی نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں و اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بیٹھ کر لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد وں نے نہتے اور بے گناہ انسانوں کا خون بہاکر ثابت کر دیا ہے کہ وہ انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہیں، دہشت گرد بزدلانہ حملوں سے قوم کا حوصلہ پست نہیں کر سکتے، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور ملک کی سلامتی اور امن کیخلاف سازشوں کو عوامی حمایت اور ریاستی رٹ مضبوط بنا کر ناکام بنایا جائے۔

جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کیلئے مغفرت اور ان کے اہلخانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔