مایوسی اور خوش گمانی میں لپٹا فیصلہ

مایوسی اور خوش گمانی میں لپٹا فیصلہ

شعروں کے حوالے سے خاکسار کا حافظہ کمزور ہے، کم شعر یاد رہتے ہیں، کوئی غلطی سے رہ جائے تو عام طور سے اسے بیان کرتے ہوئے وزن خراب ہوجاتا ہے۔ شعر کا مفہوم ہی بیان ہوسکتا ہے، اس کی لفظی خوبصورتی تہس نہس ہوجاتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلہ کی ایک برکت میں نے دیکھی کہ اس نے فوری طور پر غالب کا ایک شعر یاد کرادیا۔ اسے اپنی فیس بک پوسٹ اور ٹوئیٹ کا حصہ بنایا۔ بعد میں ریختہ پر چیک کیا تو شعر ٹھیک ہی نکلا۔ آپ سب نے سنا ہی ہوگا:

تھی خبر گرم کے غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشا نہ ہوا

اس لئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی اور برکات سامنے نہ بھی آئیں، میرے لئے بہرحال یہی کافی ہے کہ ہمارے بھولے بسرے حافظے سے یہ شعر برآمد کر ادیا۔

فیصلے کے 2 فوری اثرات

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے نے بیک وقت دو اثرات ڈالے۔ کچھ لوگوں کو یہ خدشہ تھا کہ شائد الیکشن کمیشن عمران خان کو نااہل اور تحریک انصاف پر پابندی لگا دے گا۔ اس میں ظاہر ہے تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے ہی شامل ہیں ۔انہیں اس فیصلے سے ریلیف ملا کہ وقتی طو رپر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ صرف شوکاز نوٹس ہی جاری ہوا ہے اور آگے کارروائی اگر ہوئی بھی تو وہ سپریم کورٹ میں ہوگی۔

کچھ لوگوں کو یہ امید تھی کہ عمران خان اور تحریک انصاف سے شائد جان چھوٹ جائے یا کم از کم اتنا بڑا ڈینٹ ضرور پڑ جائے گا کہ اس جماعت کی سیاسی لہر دم توڑ جائے۔ سردست تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور بظاہر جلد ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔

پی ڈی ایم کے رہنماﺅں ، خاص کر ن لیگ، پی پی اور مولانا کے حامیوں کو خاصی مایوسی ہوئی۔ اس فیصلے کے بعد ان کے لئے کھیلنے کو زیادہ کچھ ملا نہیں۔ فیصلے کے بعد وہ جو نکات دہرا رہے ہیں، ویسی باتیں تو یہ کئی برسوں سے کرتے آئے ہیں۔ پی ڈی ایم والے پہلے ہی عمران خان کو جھوٹا اور نجانے کیا کیا کہتے تھے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے نے انہیں کچھ زیادہ گولہ بارود فراہم نہیں کیا۔

کیا یہ تحریک انصاف کی فتح ہے؟

تحریک انصاف کے رہنماﺅں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے فوری بعد اپنی پریس کانفرنس میں اسے اپنی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا جوش بیاں اور فاتحانہ انداز دیدنی تھا۔ میرا خیال ہے ہمارے سیاستدانوں کے لئے آسکر ایوارڈ والوں کو کوئی کیٹیگری رکھنی چاہیے۔ کمال دیدہ دلیری سے یہ غلط بیانی کرتے ہیں اور ایسا پکا منہ بنا کر بیانیہ جاری کرتے ہیں کہ آدمی مبہوت ہو کر انہیں تکتا رہ جاتا ہے۔

مزے کی بات ہے کہ ہر روز یہ ایوارڈ مختلف فریق جیت جاتے ہیں، فیصلے والے دن کے فاتح فواد چودھری، فرخ حبیب اور ملیکہ بخاری ہیں۔ کمال دیدہ دلیری سے انہوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اپنے موقف کی جیت قرار دیا اور مخالفین پر تیر برسائے۔

یہ فیصلہ تحریک انصاف کی فتح تو خیر بالکل ہی نہیں ہے۔ اس کے گہرے مضمرات ہوسکتے ہیں، اس کے اندر پریشانیاں پوشیدہ ہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحریک انصاف کو کچھ مہلت مل گئی ہے، کوئی Casualty نہیں ہوئی ، مگر خطرات ان پر منڈلا رہے ہیں۔ اگر انہوں نے دانشمندی سے اچھے طریقے سے قانونی جنگ نہیں لڑی تو بڑا نقصان اٹھا سکتے ہیں۔

فیصلے کے اہم نکات

الیکشن کمیشن کا فیصلہ یا یہ کہہ لیں فیصلہ کن نکات اتنے مختصر ہیں کہ نیوز چینلز اپنی بریکنگ نیوز اور ٹِکرز چلانے لگے تو ایک منٹ میں معاملہ ہی نمٹ گیا۔ تین بنیادی نکات ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ستر صفحات کے فیصلے کا نچوڑ یہ ہے کہ تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ میں ملوث ہے۔ انہوں نے ابراج گروپ کے عارف نقوی اور چونتیس کے قریب غیر ملکیوں سے ممنوعہ فنڈز لئے ہیں۔

عارف نقوی پاکستانی شہریت رکھتے ہیں،اوورسیز پاکستانی کسی بھی پاکستانی جماعت کو فنڈز دے سکتے ہیں ۔ عارف نقوی پر مگر اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے ووٹن کرکٹ لمیٹیڈ جو کہ ایک عرب امارات بیسڈ کمپنی ہے، اس کے ذریعے فنڈز جمع کئے اور تحریک انصاف کو دئیے۔ عرب امارات میں ایسی فنڈ ریزنگ کمپین کی قانونی طور پر اجازت نہیں۔ یوں الیکشن کمیشن کے مطابق یہ تمام فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار پاتی ہے۔

الیکشن کمیشن یہی اعتراض برسٹل انجینرنگ سروسز پر لگاتا ہے، یہ بھی دوبئی بیسڈ کمپنی ہے ۔ پی ٹی آئی نے کئی ممالک جیسے کینیڈا، امریکہ وغیرہ میں پی ٹی آئی کے نام سے ہی کمپنیاں بنائی تھیں جن کے تھرو فنڈزپاکستان آئے۔ الیکشن کمیشن نے انہیں بھی غیر قانونی فنڈنگ قرار دیا ہے۔

بھارتی خاتون کی فنڈنگ

ایک دلچسپ الزام جس کا ذکر الیکشن کمیشن نے الگ سے کیا ہے، وہ مس رومیتا شیٹھی کی طرف سے دئیے گئے ساڑھے تیرہ ہزار ڈالر ہیں۔ یہ بی بی بھارتی نژاد امریکن ہیں، ان کی شادی ایک پاکستانی ناصر عزیز سے ہوئی جو امریکی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

یہ جوڑا آج کل سنگاپور میں مقیم ہے۔ ان میاں بیوی کے جوائنٹ اکاﺅنٹ سے خاوند ناصر عزیز نے ستائیس ہزار ڈالر تحریک انصاف کوبھیجے۔ الیکشن کمیشن نے اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے ساڑھے تیرہ ہزار ڈالر بیوی کے کھاتے میں ڈال دئیے ہیں۔ شائد اس لئے کہ مس رومیتا شیٹھی نام ہی سے ہندو، انڈین لگتی ہیں اور اس طرح تحریک انصاف کو انڈین فنڈنگ کا الزام ثابت ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ مضحکہ خیز بات ہے۔

اکثر شادی شدہ جوڑے جوائنٹ اکاﺅنٹ رکھتے ہیں، اگر خاوند کسی اکاﺅنٹ سے کوئی پیمنٹ کرے تو کیا اس کی آدھی رقم کا الزام بیوی پر لگا یا جائے گا؟ جیسے مسٹراکرم اپنے جوائنٹ اکاوئنٹ سے ایک کروڑ کی گاڑی خریدیں تو کل کو نیب یا کوئی اور ادارہ ان کی بیوی کے پاس پہنچ جائے کہ بی بی پچاس لاکھ روپے آپ کے ہیں، ان کی منی ٹریل دکھاﺅ۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے اور الیکشن کمیشن کے اس فیصلے میں ایسی کئی چیزیں ملتی ہیں۔

ایک اور طرح سے دیکھیں ، مثال کے طور پر شعیب ملک کسی ادارے کو جوائنٹ اکاﺅنٹ سے عطیہ دے اور کوئی ادارہ کہے کہ اس رقم کا آدھا جائز ہے کیونکہ شعیب ملک نے دیا اور آدھا ناجائز ہے کیونکہ بھارتی شہریت رکھنے والی ثانیہ مرزا کا ہے۔ لگتا ہے الیکشن کمیشن کو جوائنٹ اکاﺅنٹس کے حوالے سے بنیادی معلومات بھی حاصل نہیں ۔

فیصلے پر آنے والے اعتراضات

ایک اعتراض یہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ ابراج گروپ کے عارف نقوی پر کرپشن وغیرہ کے الزامات ابھی دو تین سال پہلے لگے ہیں، وہ بھی ابھی الزامات ہیں، جرم ثابت نہیں ہوا، عین ممکن ہے کہ عارف نقوی عدالت سے بری ہوجائے۔ اس لئے الیکشن کمیشن ابھی سے نتائج اخذ نہ کرے ۔ دوسرا جن دنوں(2012) میں یہ فنڈز بھیجے گئے، تب ابراج گروپ ایک اچھی شہرت رکھنے والا عالمی بزنس گروپ تھا۔ تحریک انصاف کو کیا خبر تھی کہ چھ سات سال بعد اس پر الزامات لگیں گے اور یہ متنازع قرار پائے گا۔

اسی طرح بہت سے اوورسیز پاکستانیوں نے اپنی بزنس کمپنی اکاﺅنٹ سے پیسے بھیجے، ان میں بہت سے سو ، دو سو یا ڈھائی سو سے پانچ سو ڈالر تک ہیں۔ یہ قابل فہم ہے۔ جب کسی شخص کی اپنی ذاتی کمپنی ہے تو وہ اپنے ذاتی اکاﺅنٹ کے بجائے کمپنی اکاﺅنٹ سے بھی بھیج سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اسے بھی ممنوعہ فنڈنگ میں ڈال دیا۔ آصف نامی ایک شخص کو اسرائیلی لکھا ہے، حالانکہ وہ پاکستانی ہے۔ڈونیشن دینے والی کمپنیوں کی فہرست میں پے پال نامی کمپنی کو بھی شامل کیا گیا ہے اور کئی بینکوں کو بھی۔ حالانکہ پے پال کے ذریعے پیسے بھیجے گئے ہوں گے، پے پال نے خود تو نہیں بھیجے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عجلت میں الیکشن کمیشن کے فاضل ارکان نے فیصلہ لکھ ڈالا۔ اتنی جلدی کہ ٹھیک سے اس کا پروف تک نہیں پڑھا گیا۔ ایسا بھی کیا دباﺅ تھا؟

کیا بینک اکاﺅنٹس چھپائے گئے؟

الیکشن کمیشن کے فیصلے کا ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے صرف آٹھ اکاﺅنٹس کی تفصیل دی ہے جبکہ تیرہ ایسے بینک اکاﺅنٹ ہیں جو استعمال ہوئے ، انہیں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماﺅں نے کھولا تھا، مگر الیکشن کمیشن کو انکی تفصیل نہیں دی گئی، الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک سے یہ معلومات لیں۔ تحریک انصاف کو اس کا مدلل قانونی جواب اپیل میں دینا پڑے گا۔ ویسے ان کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ تیرہ اکاﺅنٹ باہر سے فنڈز لینے کے لئے استعمال نہیں ہوئے، اس لئے ان کی تفصیل نہیں دی گئی ۔

عمران خان کا جھوٹا بیان حلفی؟

فیصلے کا اہم ترین نکتہ عمران خان پر ڈائریکٹ الزام ہے کہ انہوں نے پانچ سال تک غلط فارم ون جمع کرایا۔ اس فارم میں دی گئی تفصیلات ان تمام اعداد وشمار سے میچ نہیں کرتیں جو الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک اور دیگر سورسز سے حاصل کیں۔

مزے کی بات ہے کہ پی ڈی ایم کے رہنما اسے بار بار جھوٹا بیان حلفی قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ بیان حلفی نہیں ۔ قانونی اعتبار سے بیان حلفی ایک اور چیز ہے، جس میں آپ حلف اٹھا کر سٹیٹمنٹ دیتے ہیں اور اس پر دستخط، انگوٹھا وغیرہ بھی لگوایا جا تا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق فارم ون کی زبان یہ ہے کہ میں اپنی بہترین معلومات کے مطابق ان معلومات کو درست قرار دے رہا ہوں۔

ماہرین کے مطابق یہ ممکن ہے کہ کوئی اہم بات یہ فارم ون بھرنے والے کے علم میں تب نہ ہو۔ اس لئے اسے جھوٹا بیان حلفی نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال اس نکتے کو تحریک انصاف نے عدالت میں ثابت کرنا ہے۔ یہ وہ پوائنٹ ہے جس پر کسی طرح عمران خان نااہل ہوسکتے ہیں۔ انہیں اوران کی جماعت کو سب سے زیادہ نقصان اسی پوائنٹ سے ہوسکتا ہے۔ اس لئے اگر تحریک انصاف نے اچھے طریقے سے قانونی جنگ نہ لڑی تو مسلم لیگ ن کی قیادت جیسا معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔ یاد رہے کہ میں نے صرف امکان ظاہر کیا ہے، امکان معمولی یا زیادہ ، اس کا فیصلہ عدالت ہی کرتی ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اب الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت اگلے چند دنوں میں سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیج سکتی ہے۔ عمران خان کی نااہلی یا تحریک انصاف کو کالعدم قرار دینا یا بری کر دینا یہ سب عدالت عظمیٰ کا دائرہ کار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پر سپریم کورٹ تین رکنی فل بنچ بناتا ہے، پانچ رکنی لارجر بنچ یا پھر فل کورٹ اسے سنے گی۔ پی ڈی ایم کے رہنماﺅں نے پنجاب اسمبلی کیس میں فل کورٹ کا اتنا زیادہ شور مچایا اور عدالت پر دباﺅ ڈالنے کی کوشش کی کہ شائد اب معاملہ فل کورٹ میں جائے۔ وفاقی حکومت کی کوشش یہی ہوگی۔

فل کورٹ میں اگر یہ کیس گیا تو عین ممکن ہے کہ اس طرح کے بعض پرانے معاملات بھی کسی طرح اکھٹے کر دئیے جائیں (اس کی تفصیل میں ابھی نہ جانا ہی ٹھیک ہے)۔ پنجابی محاورے کے مطابق پھر جو کٹا،کٹی نکلے ، وہ سب دیکھ لیں گے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں