لاہور ٹیوشن سینٹر حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو دی گارجین

کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے واقعے پر ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کی رپورٹ تیار کرلی گئی ، جس میں سنسنی خیز حقائق سامنے آئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے المناک واقعے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے اپنی تفصیلی انکوائری رپورٹ تیار کر کے ضلعی انتظامیہ کو ارسال کر دی۔

رپورٹ میں واقعے کے حوالے سے سنسنی خیز حقائق سامنے آئے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ٹیوشن سینٹر کسی باقاعدہ تجارتی یا تعلیمی عمارت کے بجائے ایک رہائشی گھر میں قائم کیا گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کا کہنا تھا کہ یہ ٹیوشن سینٹر کسی بھی سرکاری ادارے یا محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں تھا اور مکمل طور پر غیر قانونی طور پر کام کر رہا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک خاتون نجی طور پر اپنے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں کے بچوں کو اس گھر میں ٹیوشن پڑھاتی تھیں اور افسوسناک حادثے کے وقت اس چھوٹے سے ٹیوشن سینٹر میں 25 سے 30 بچے موجود تھے، جس کے باعث چھت گرنے سے بڑا نقصان ہوا۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن اتھارٹی لاہور طارق محمود نے کہا “رہائشی گھروں کے اندر نجی طور پر قائم کیے جانے والے ایسے ٹیوشن سینٹرز اس وقت محکمہ تعلیم کے دائرہ رجسٹریشن میں سرے سے آتے ہی نہیں ہیں، اور نہ ہی موجودہ قوانین کے تحت ان کی رجسٹریشن کا کوئی باقاعدہ نظام موجود ہے۔”

ایجوکیشن اتھارٹی نے اپنی رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو بھیج دی ہے، جس کی روشنی میں اب انتظامیہ رہائشی علاقوں میں چلنے والے ایسے تمام غیر رجسٹرڈ اکیڈمیز اور سینٹرز کے خلاف آئندہ کا سخت لائحہ عمل اور سیفٹی قوانین طے کرے گی تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حادثے سے بچا جا سکے۔

Related Posts