شاتم رسول سلمان رشدی اندھا ہوگیا، ایک ہاتھ بھی ناکارہ

مقبول خبریں

کالمز

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

سلمان رشدی کے ایجنٹ نے تصدیق کی ہے کہ دو ماہ قبل امریکی ریاست نیویارک میں ہونے والے حملے کی وجہ سے رشدی کی ایک آنکھ ضائع اور وہ ایک ہاتھ کے استعمال سے محروم ہو گیا ہے۔

بارہ اگست 2022 کو توہین آمیز ناول  کے 75 سالہ مصنف سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور ان کی گردن اور دھڑ میں چھرا گھونپ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

شاتم رسول سلمان رشدی کی حالت خراب، وینٹی لیٹر پر منتقل

سلمان رشدی اس وقت چوطاقہ انسٹی ٹیوشن میں فنی آزادی پر تقریر کرنے کے لیے اسٹیج پر موجود تھے۔

ابھی تک رشدی کے زخموں کی مکمل سنگینی واضح نہیں تھی۔ لیکن اسپین کے ایل پیس کے ساتھ ایک انٹرویو میں ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے بتایا کہ حملہ کتنا سنگین اور زندگی بدل دینے والا تھا۔

انہوں نے کہا کہ، ”رشدی کے زخم گہرے تھے، وہ ایک آنکھ کی بینائی کھو چکے ہیں، ان کی گردن میں تین سنگین زخم تھے۔ ان کا ایک ہاتھ ناکارہ ہے کیونکہ ان کے بازو کے اعصاب کٹ چکے تھے، اس کے علاوہ ان کے سینے اور دھڑ میں تقریباً 15 مزید زخم ہیں۔“

ایجنٹ نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا رشدی اب بھی ہسپتال میں ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:

گستاخانہ کتاب کے مصنف سلمان رشدی پر حملہ کرنیوالے ملزم کی شناخت ظاہر کردی گئی

رشدی کو چھرا گھونپنے کے الزام کا سامنا کرنے والے شخص نے 18 اگست کو عدالت میں پیش ہونے پر دوسرے درجے کے قتل اور حملہ کے الزامات کا اعتراف کیا۔

چوبیس سالہ ہادی مطر کو چوطاقہ کاؤنٹی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ایک مختصر سماعت کے دوران ایک گرانڈ جیوری سامنے پیش کیا گیا جس میں ان پر دوسرے درجے کے قتل کی کوشش اور حملے کا الزام لگایا گیا تھا۔

حملے سے دو ہفتے قبل رشدی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی زندگی ”ایک بار پھر عام“ ہو گئی ہے اور حملے کا خدشہ ماضی کی بات ہے۔

Related Posts