اوور بلنگ سے پریشان ہیں؟ لیجئے بل کم کروانے کا فارمولا

بجلی کی قیمتوں میں مسلسل ہوشربا اضافوں کے بعد بجلی کے بل آسمان پر جا پہچنے ہیں اور متوسط طبقہ اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ بجلی کمپنیوں کو دینے پر مجبور ہوگیا ہے۔ اس صورتحال سے تنگ عوام اب بلبلا کر سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ جمعہ کے بعد ہفتے کو بھی ملک گیر مظاہرے ہوئے۔

عام صارفین نے بجلی کا استعمال ہر ممکن حد تک کم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود بھاری بھرکم بل موصول ہو رہے ہیں، تاہم ایک طریقہ ایسا ہے جس کی بدولت بجلی کے بل میں نمایاں کمی آسکتی ہے اور یہ مکمل طور پر قانونی بھی ہے۔

بجلی کے بل میں کمی کیلئے لوگ سولر پینلز لگوانے کی تجویز دیتے ہیں لیکن ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے سبب روایتی طریقے سے سولر پینل نصب کرنے کی لاگت بہت بڑھ چکی ہے۔ سولر سسٹم کا مرکزی حصہ یعنی انورٹر بہت مہنگا ہو چکا ہے۔ اس صورت حال میں کم آمدن والے گھرانوں کیلئے متبادل انورٹر کے بغیر ایک چھوٹے سولر سسٹم کی تنصیب ہے۔

اس مقصد کے لیے آپ کو درج ذیل اشیا درکار ہوں گی۔ سولر پینل 180 واٹ۔ لاگت تقریبآ 16 ہزار روپے بیٹری 100 ایمپیئر، تقریباً 25000 سولر پینل چارجر، ایک ہزار روپے ایل ای ڈی بلب، 200 روپے وائرز، تین سے پانچ ہزار روپے ڈی سی پنکھا، 12 ہزار روپے۔

اس طرح تقریباً ساٹھ ہزار روپے میں ایک بنیادی نوعیت کا سولر پینل گھر پر نصب کیا جا سکتا ہے جو ایک پنکھا تقریباً 24 گھنٹے چلائے گا اور ساتھ میں ایک بلب بھی روشن کرے گا۔

چھوٹے سولر سسٹم میں ڈی سی سے اے سی کرنٹ بنانے والا انورٹر شامل نہیں ہوتا جس کی وجہ سے لاگت نمایاں طور پرکم ہو جاتی ہے۔

اس سلسلے میں پنکھے کی خریداری کے وقت یہ ذہن میں رکھنا لازمی ہے کہ پنکھا کسی معیاری کمپنی کا ہو اور وارنٹی کے ساتھ ہو، کم وارنٹی یا بغیر وارنٹی والے پنکھے سستے مل سکتے ہیں لیکن ایک تو ان کے خراب ہونے پر نقصان کا خدشہ رہتا ہے اور دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیرمعیاری پنکھے بجلی زیادہ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے رات میں بند ہونے کا خدشہ رہے گا۔

اس سولر پینل کو کوئی بھی الیکٹریشن باآسانی نصب کر سکتا ہے۔ بس اس بات کا خیال رہے کہ مثبت اور منفی کرنٹ کی تاریں الٹ نہ لگائی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:

بجلی کمپنیوں کے ملازمین کی عیاشی، برائے نام بل دیکھ کر عوام دنگ رہ گئے

ہر گھر میں کم ازکم ایک پنکھا ایسا نصب ہوتا ہے جو چوبیس گھنٹے چلتا ہے۔ ایسا پنکھا مہینے میں 60 سے 90 یونٹ استعمال کر دیتا ہے۔ بجلی کے موجودہ نرخوں کے حساب سے ٹیکس سمیت 90 یونٹ کی قیمت تین ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے۔

اگر آپ پورے گھر کو سولر پر منتقل نہیں بھی کرتے تو یہ تین ہزار آپ کے بچ سکتے ہیں لیکن اس سے بھی بڑا فائدہ یہ ہے کہ بجلی کے بل میں آپ اگلے سلیب کی زد میں آنے سے بچ سکتے ہیں۔

ماضی میں بجلی کی قیمت اس طرح وصول کی جاتی تھی کہ اگر آپ نے 250 یونٹ استعمال کیے ہیں تو 200 یونٹ تک کا بل کم سلیب کے حساب سے لیا جاتا تھا اور باقی 50 یونٹ کی قیمت 200 یونٹ سے اوپر والے سلیب کے حساب سے وصول کی جاتی تھی۔

لیکن آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت حکومت نے نرخوں کا نظام تبدیل کردیا۔ اب اگر آپ 200 یونٹ سے ایک یونٹ بھی اوپر خرچ کردیتے ہیں تو آپ پر 200 یونٹ سے زائد کے سلیب کا اطلاق ہوگا اور پورے بل میں بھاری اضافہ ہو جائے گا۔

ایک پنکھے پر مشتمل سولر سسٹم کو نصب کرنے سے آپ جو 60 سے 90 یونٹ بجائیں گے وہ آپ کو اگلے سلیب کی زد میں آنے سے روکیں گے۔ اس طرح ایک چھوٹا گھرانا بجلی کے ماہانہ بل میں پانچ ہزار روپے تک بچا سکتا ہے۔