کیا نئے وزیراعظم ملک کو آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات دلا سکیں گے؟

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوئے جس کے بعد آصف علی زرداری کو صدرِ مملکت اور شہباز شریف کو ملک کا نیا وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ آزاد نشستیں حاصل کرنے والے آزاد امیدواروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

آج پنجاب اسمبلی کے اراکین نے حلف اٹھا لیا ہے اور 80 نشستیں چھینے جانے کے دعویدار آزاد امیدوار صرف ٹی وی پر بیان بازی سے کام چلا رہے یا پھر احتجاج کر رہے ہیں، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ احتجاج کا پاکستان میں آج تک کوئی نتیجہ نہ نکلا ہے اور نہ نکل سکے گا۔

موجودہ صورتحال

ن لیگ اور پی پی پی وفاق میں حکومت کا اعلان کرچکی ہیں۔ دیگر جماعتیں ان کے ساتھ آنے کی کوششیں کر رہی ہیں جبکہ  نئے سیٹ اپ کے تحت پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اپوزیشن میں بیٹھتے نظر آتے ہیں۔ حکومت کا قیام اقتدار کی جنگ سے کم نہیں ہے لیکن یہ اقتدار ہے کس ملک کا؟

ہم ایک ایسے ملک کے اقتدار کی بات کر رہے ہیں جو قرضوں میں سرتا پا گھرا ہوا ہے اور نئی حکومت ایک ایسی صورتحال کا سامنا کرنے پر مجبور ہوگی جس میں اندرونی و بیرونی قرضے انتہائی زیادہ ہوں گے جنہیں سنبھالنا مشکل ہوسکتا ہے۔

پاکستان پر کتنا قرض ہے؟

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 31دسمبر تک پاکستان پر مجموعی طور پر 65 ہزار 189 ارب روپے کا اندرونی و بیرونی قرض واجب الادا ہے جس میں صرف گزشتہ برس کے دوران ہی 14ہزار ارب کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو انتہائی تشویشناک ہے۔

گزشتہ برس کی اسی تاریخ کو پاکستان پر قرض کا حجم 51 ہزار 58ارب تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان پر قرض کے حجم میں 27 اعشاریہ 7فیصد اضافہ ہوا ہے اورڈالرز کے اعتبار سے پاکستان پر مجموعی قرض کا حجم 131 ارب ڈالرز بنتا ہے جو ماہانہ بنیادوں پر بڑھ رہا ہے۔

نئی حکومت کیلئے چیلنج

معاشی سطح پر ایک نئی حکومت کیلئے قرض کی ادائیگی بر وقت کرنا بڑا معاشی چیلنج ثابت ہوسکتا ہے جبکہ قرض کی عدم ادائیگی کے باعث ملک پر ڈیفالٹ کے گھنے بادل ایک بار پھر چھا سکتے ہیں اور ملک کی معاشی صورتحال اس سے بھی خراب ہوسکتی ہے جتنی کہ آج ہے۔

قرض کے چیلنج سے عہدہ برآ ہوئے بغیر پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوجائے، یہ ممکن نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کے باعث پاکستان کی معاشی نمو بہت مشکل ہوجائے گی اور اس کا واحد راستہ معاشی اصلاحات میں مضمر ہے۔ 

معاشی اصلاحات

قومی سطح پر ایس آئی ایف سی (اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل) کے قیام سے ملک بھر میں ایک عام تاثر ابھرا تھا کہ پاک فوج ملکی معیشت کو سہارا دینے میں کامیاب ہوجائے گی اور ایس آئی ایف سی کے قیام سے ملک میں معاشی اصلاحات کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں بیرونی سرمایہ کاروں کی اتنی شدید ضرورت کے باوجود کسی بھی بیرونی سرمایہ کار کیلئے مشکلات ہیں، ایس آئی ایف سی کو درپیش چیلنجز کی نوعیت اور وسعت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پھر بھی ایس آئی ایف سی کا دعویٰ ہے کہ متعدد کامیابیاں پہلے ہی حاصل کرلی گئی ہیں۔