میر رضا کے موبائل اور اسمارٹ واچ سے اہم راز کھلے گا؟ ڈیوائسز فرانزک کیلئے لاہور بھیج دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے قتل کی گتھی سلجھانے کے لیے تحقیقات مزید آگے بڑھ گئی ہیں۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کے بعد تفتیشی کمیٹی کو بھی وسعت دے دی گئی ہے جبکہ مقتول کے موبائل فون اور اسمارٹ واچ کی فرانزک جانچ اب لاہور کی لیبارٹری میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق میر رضا علی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی میں دو نئے ارکان شامل کر دیئے گئے ہیں۔ ان اضافوں کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کی مجموعی تعداد نو ارکان تک پہنچ گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ لطیف تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے علاوہ ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے جسکے بعد کیس کی تفتیش کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا ہے۔

حکام کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے میر رضا علی کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ این سی آئی اے سے واپس لے لی ہے۔ دونوں اہم ڈیوائسز کو اب مزید شواہد اور ڈیٹا کے حصول کے لیے لاہور کی فرانزک لیبارٹری بھیجا جائے گا۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ فرانزک جانچ کا مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ مقتول کے اہل خانہ کے تحفظات کے بعد کیا گیا۔ میر رضا کے خاندان نے این سی آئی اے میں جاری فرانزک معائنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے بعد کمیٹی نے دونوں ڈیوائسز لاہور بھجوانے کا فیصلہ کیا۔

ادھر کیس میں ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے، کراچی کی عدالت نے مقتول تاجر کے کاروباری ساتھی محمد احمد کی عبوری ضمانت میں 24 اگست تک توسیع کردی ہے۔

قتل کیس کا پس منظر

میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو ملنے کے بعد یہ واقعہ کراچی کے ہائی پروفائل مقدمات میں شامل ہوگیا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے موت کو خودکشی کا واقعہ قرار دیا تھا تاہم بعد میں معاملے نے نیا رخ اختیار کیا۔

عدالتی حکم پر لاش کی تدفین کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا گیا جس میں موت خودکشی کے بجائے قتل ہونے کی تصدیق ہوئی۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ گولی کمر کے راستے جسم میں داخل ہوئی اور سینے سے باہر نکلی۔

رپورٹ کے مطابق مقتول کی پسلیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں جبکہ سر پر زخموں کے علاوہ چہرے پر کیمیکل سے جھلسنے کے نشانات بھی پائے گئے جنہوں نے واقعے کی نوعیت پر مزید سوالات اٹھا دیے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت نے کیس کی تفتیش آگے بڑھانے کے لیے میر رضا علی کا سم کارڈ بھی طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر 24 اگست کو میڈیکل رپورٹ کے ساتھ تحقیقات سے متعلق رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

اس سے قبل پولیس نے جائے وقوعہ کی نگرانی اور تحقیقات کے لیے وہاں 24 گھنٹے کی عارضی چیک پوسٹ قائم کی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد موقع پر پہنچنے والے ایدھی رضاکاروں نے بھی اہم معلومات فراہم کی تھیں۔

ایدھی رضاکاروں کے مطابق میر رضا علی کی لاش جھاڑیوں میں چھپائی گئی تھی جبکہ جسم پر گولی لگنے اور جلائے جانے کے نمایاں آثار موجود تھے جن سے ابتدائی طور پر بھی واقعے کی سنگینی ظاہر ہوتی تھی۔

میر رضا علی کے اہل خانہ کی جانب سے کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی برقرار ہے۔ خاندان کی نمائندگی کرنے والے وکیل جبران ناصر مسلسل اس موقف کا اظہار کر رہے ہیں کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔

Related Posts