مولانا مرتضیٰ پر گولیاں کیوں برسائی گئی! پرانی دشمنی کی چھپی ہوئی حقیقت کیا ہے؟

مقبول خبریں

کالمز

dr jamil
چین کی تاریخ: عروج و زوال اور عالمی سیاست میں مقام
dr jamil
پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت: کیا یہ اسلامک نیٹو ہے؟
dr jamil
ایران امریکا تنازعہ :  ایک خطرناک مرحلہ

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

(فوٹو؛ آن لائن)

بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے نصیر آباد علاقے میں ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جہاں ایک مدرسہ کے مولانا 45 سالہ مرتضیٰ کو دن دہاڑے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔ افسوسناک سی ایچ سی کے قریب پیش آئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

پولیس حکام کے مطابق مرتضیٰ اپنی بیٹی کو سسرال سے واپس لاتے ہوئے گزر رہے تھے کہ اچانک چند ملزمان نے ان پر گولیاں چلائیں۔گولی لگنے سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اہلِ علاقہ نے اس واقعے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مقتول کی بیٹی نے فوری طور پر پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے 5 افراد کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دی اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق مقتول اور ملزمان کے درمیان پرانی دشمنی اس قتل کا بنیادی سبب بنی۔

ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ دو مرکزی ملزمان، سلمان اور نعیم، نصیر آباد کے رہائشی ہیں جنہوں نے مرتضیٰ پر فائرنگ کی۔ پولیس نے ان دونوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے متعدد ٹیمیں تشکیل دے کر دیگر نامزد اور نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاش شروع کر دی ہے۔

اسپیشل پولیس افسر (ایس پی) یشویر سنگھ نے واقعے کی سنگینی پر تبصرہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس وقت علاقے میں اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے اور مقدمے کی مزید تفتیش ڈی ہا پولیس اسٹیشن کے انچارج کر رہے ہیں۔

گاؤں کے رہائشیوں کے مطابق یہ واردات پرانی دشمنی کا نتیجہ ہے۔ مقتول پہلے بھی ملزمان کے خلاف کسی معاملے میں پولیس میں شکایت درج کروا چکے تھے جس پر ملزمان جیل گئے لیکن بعد میں رہائی کے بعد دوبارہ مولانا سے تصادم میں ملوث ہو گئے۔ پولیس نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

Related Posts