امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کرسٹی نوم، جنہوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں میں مرکزی کردار ادا کیا ماہ کے اختتام پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ وہ اوکلاہوما کے سینیٹر مارک وین ملن کو ان کی جگہ نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے لیے امریکی سینیٹ کی منظوری درکار ہوگی۔
جنوبی ڈکوٹا کی سابق گورنر کرسٹی نوم ٹرمپ کی کابینہ کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتی تھیں۔ وہ اکثر سوشل میڈیا کے ذریعے امیگریشن کے خلاف کارروائیوں اور غیر دستاویزی تارکین وطن سے متعلق مبینہ جرائم کے واقعات کو نمایاں کرتی رہیں۔ تاہم ان کی پوسٹس کو اکثر سخت اور بعض اوقات اشتعال انگیز لہجے کی وجہ سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔
سی این این کے مطابق نوم کو اپنی برطرفی کی خبر اُس وقت ملی جب وہ نیش ول میں ایک تقریب میں پہنچ رہی تھیں۔ دو ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے خود انہیں فون کر کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
بعد میں این بی سی نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ نوم کی کارکردگی کی وجہ سے کم اور سینیٹر ملن کو آگے لانے کے لیے زیادہ کیا گیا اور انہوں نے اسے “کوئی مشکل فیصلہ نہیں” قرار دیا۔
کرسٹی نوم کون ہیں؟
کرسٹی نوم جن کی عمر 54 برس ہے، ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہی سنبھالنے سے پہلے جنوبی ڈکوٹا کی ریپبلکن گورنر رہ چکی ہیں۔ اپنے دور میں وہ متعدد تنازعات کا شکار بھی رہیں، خصوصاً امیگریشن کے خلاف نمایاں کارروائیوں اور سوشل میڈیا پر ان کی بھرپور تشہیر کی وجہ سے، جن میں وہ اکثر وفاقی ایجنٹس کے ساتھ گرفتاریوں کے دوران نظر آتی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








