بٹ کوائن کی قیمت میں مسلسل اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

رواں ہفتے بٹ کوائن کی قیمت 56 ہزار ڈالر سے 61 ہزار 4سو ڈالر کی حد بھی عبور کرچکی ہے، پچھلے سال کے آغاز میں بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 300فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

فوربز کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز کی حالیہ منظوری نے قیمت بڑھانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔Bitcoin کی محدود فراہمی اور مانگ کے ساتھ کرپٹو ٹریڈرز کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی اپنی مقبولیت کی نئی بلندیوں کی طرف گامزن ہے۔

بٹ کوائن کیوں اوپر جا رہا ہے؟
رپورٹ کے مطابق منگل 27 فروری کو نئے منظور شدہ اسپاٹ بٹ کوائن ETFs میں ریکارڈ یومیہ آمد کے بعد قیمت میں اضافہ ہوا اور سنٹرلائزڈ ایکسچینجز پر موجود بٹ کوائن کی مقدار ایک نئی کم ترین سطح پر آ گئی۔ بٹ کوائن کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں قیمت مسلسل اوپر جارہی ہے اور ٹریڈرز کیلئے بٹ کوائن کی طلب کو پورا کرنا مشکل ہورہا ہے۔

امریکا کی طرف سے تاریخ میں پہلی بار بٹ کوائن کو جائز سرمایہ کاری کے طور پر دیکھے جانے کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں تیزی کا رجحان ہے اور یہ تیزی کا سلسلہ گزشتہ برس اکتوبر سے جاری ہے۔

کرپٹو ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تیزی کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو بٹ کوائن آنے والے دو برسوں کے اندر گولڈ فنڈ کے مجموعی حجم کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔بٹ کوائن کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے کرپٹو مارکیٹ میں دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

کرپٹو مارکیٹ کے ٹریڈرز کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کے ساتھ ساتھ ایتھریم کی ٹریڈنگ میں بھی مثبت تبدیلی دیکھی گئی ہے اور کرپٹو اسٹاک میں ایتھریم کے شیئرز میںبھی بہتری آئی ہے اور اگر سرمایہ کار ایتھریم کی خریداری کرتے ہیں تو ای ٹی ایچ کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

کیا کرپٹو کا برا وقت ختم ہوگیا؟
بٹ کوائن گزشتہ کافی عرصہ سے قیمت میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے نزدیک مقبولیت کھوتا جارہا تھا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی آشیر باد کے بعد بٹ کوائن کا برا وقت یوں محسوس ہوتا ہے کہ ختم ہوگیا ہے اور ناصرف بٹ کوائن بلکہ دیگر کرپٹو کرنسیوں کا اچھا وقت بھی آنے والا ہے۔