ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تیاری، کیا حکومت نوجوانوں کو انتخابی عمل سے باہر کرنا چاہتی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

بیلٹ بکس
نوجوانوں کو پاور گیم سے باہر کرنے کی تیاری؟ علامتی تصویر

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثناءاللہ نے ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کے درمیان کہا ہے کہ حکومت ووٹنگ کی عمر 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عیدالاضحیٰ سے قبل سیاسی حلقوں میں اس ممکنہ ترمیم پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں 2010 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں منظور ہونے والی 18ویں ترمیم کے بعض پہلوؤں پر بھی نظرثانی زیر غور ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز نوجوانوں کی سیاسی شمولیت، جمہوری نمائندگی اور انتخابی اصلاحات پر وسیع بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

ایک حالیہ گفتگو میں آئینی اصلاحات کے حوالے سے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ یہ تجویز دیگر گورننس سے متعلق امور کے ساتھ زیر بحث ہے۔ ان کے مطابق اگر شہریوں کو 25 سال سے پہلے الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں تو یا تو امیدوار بننے کی عمر 18 سال کی جائے یا پھر ووٹ دینے کی عمر پر بھی نظرثانی کی جائے۔

پاکستان کے موجودہ انتخابی قوانین کے تحت 18 سال یا اس سے زائد عمر کے شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، بشرطیکہ وہ متعلقہ انتخابی حلقے کے رہائشی ہوں۔ ووٹنگ کی عمر میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی اور قانونی ترمیم درکار ہوگی۔

رانا ثناءاللہ کے مطابق مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر گفتگو صرف اسی معاملے تک محدود نہیں بلکہ اس میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے وسائل کی تقسیم، آبادی پر قابو پانے کی پالیسیاں اور نئے آبی ذخائر کی تعمیر جیسے اہم امور بھی شامل ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کسی بھی فیصلے سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاقِ رائے کو یقینی بنائے گی۔

Related Posts