قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کراچی کے اہم ترقیاتی منصوبوں پر مبینہ طور پر ورلڈ بینک نے اعتراضات اٹھا دیے ہیں، جس کے بعد شہر میں جاری بعض بڑے منصوبے تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔
خاص طور پر یونیورسٹی روڈ پر کے۔فور (K-IV) واٹر پائپ لائن کی توسیع کا کام رک جانا شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن گیا ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج سسٹم امپروومنٹ پروجیکٹ (KWSSIP) کے تحت کے فور منصوبے کی پائپ لائن بچھانے کے لیے یونیورسٹی روڈ کا 2.7 کلومیٹر طویل حصہ، نیپا چورنگی سے وفاقی اردو یونیورسٹی تک، 10 نومبر 2025 کو بند کیا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت 96 انچ اور 72 انچ قطر کی پائپ لائنیں نصب کی جانی تھیں اور حکام نے کام کی تکمیل کی ڈیڈ لائن دسمبر 2025 مقرر کی تھی۔
تاہم جنوری 2026 کے آغاز تک صورتحال یہ ہے کہ سڑک بدستور بند ہے، بھاری مشینری اور رکاوٹیں موجود ہیں، مگر زمینی سطح پر تعمیراتی سرگرمیاں رکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ روزانہ اس شاہراہ سے گزرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دنوں سے کسی قسم کی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، جس کے باعث ٹریفک کا شدید دباؤ راشد منہاس روڈ اور شاہراہِ فیصل جیسے متبادل راستوں پر منتقل ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس تعطل کو مبینہ طور پر ورلڈ بینک کی جانب سے کراچی سے منسلک ترقیاتی منصوبوں پر اٹھائے گئے اعتراضات سے جوڑا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورلڈ بینک نے مجموعی طور پر کراچی کے انفراسٹرکچر منصوبوں، ان کی رفتار، فنڈنگ اور مقررہ ٹائم لائنز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن میں کراچی موبیلیٹی پروجیکٹ سمیت دیگر معاون اسکیمیں بھی شامل ہیں۔
اگرچہ تاحال کسی سرکاری اعلامیے میں یہ واضح طور پر نہیں کہا گیا کہ ورلڈ بینک نے کے۔فور پائپ لائن منصوبے کو روکنے کا حکم دیا ہے، تاہم شہریوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ فنڈنگ کی شرائط، منصوبوں میں توسیع یا کارکردگی سے متعلق سوالات کے باعث کام عملی طور پر تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منصوبوں کے حوالے سے مالیاتی اداروں کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو کراچی میں پہلے سے جاری پانی، ٹرانسپورٹ اور شہری سہولیات کے بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
شہریوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ورلڈ بینک کے اعتراضات اور منصوبوں کی موجودہ صورتحال پر واضح مؤقف اختیار کیا جائے اور جلد از جلد کام دوبارہ شروع کر کے سڑکوں کو کھولا جائے، تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








