صحافی شیریں ابو عاقلہ کون تھیں؟

صحافی شیریں ابو عاقلہ کا قتل، الجزیرہ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کرلیا

مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی فورسز نے فائرنگ کرکے الجزیرہ کی خاتون صحافی کو قتل کردیا، جاں بحق صحافی مغربی کنارے میں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مصروف تھیں۔

ساتھی صحافی کا بیان

خاتون صحافی کے قتل کے متعلق الجزیرہ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے صحافی ابراہیم کا کہنا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ جینن میں اسرائیلی مظالم بے نقاب کر رہی تھیں۔

ابراہیم نے رملا سے اپنے رقت آمیز بیان میں کہا کہ شیریں ابو عاقلہ کی موت ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام صحافیوں کیلئے ایک بڑا صدمہ ہے۔ وہ ایک بہت قابلِ احترام صحافی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ شیریں ابو عاقلہ الجزیرہ کے ساتھ سن 2000ء سے فلسطین میں دوسرے فلسطینی انتفادہ کے آغاز سے ہی کام کر رہی تھیں۔ اس اعتبار سے انہیں اس ادارے میں 22برس بیت چکے تھے۔

الجزیرہ کی تصدیق

عربی کے معروف چینل الجزیرہ اور فلسطینی وزارتِ صحت نے مغربی کنارے میں شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی تصدیق کردی۔ وزارتِ صحت کے مطابق موت کی تصدیق ہسپتال میں ہوئی۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ خاتون صحافی کو مغربی کنارے میں واقع شہر جینن میں بدھ کے روز گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ زخمی حالت میں انہیں علاج کیلئے ہسپتال لے جایا گیا جہاں موت کی تصدیق ہوگئی۔

مذمت

اقوام متحدہ نے بھی الجزیرہ کی عربی سروس کی مشہورومعروف صحافی شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ میں الجزیرہ کی رپورٹر شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں، جنہیں آج صبح مقبوضہ مغربی کنارے کے جنین میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی کوریج کے دوران براہ راست گولی مار کر ہلاک کر دیا گیاتھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ملازمین کو کبھی بھی اس طرح سے نشانہ نہیں بنانا چاہیے جو بھی اس واقعے کے ذمہ دار ہیں ان کیخلاف فوری کارروائی کرنی چاہیے ۔

اسرائیل میں امریکی سفیر ٹام نائیڈز نے امریکی شہریت رکھنے والی ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ صحافی کے قتل کی مکمل تحقیقات کروائی جائیں۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں

اسرائیل اور فلسطین کے ڈائریکٹر عمر شاکر نے کہا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں ابو عاقلہ کی ہلاکت کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسرائیلی افواج نے منظم طریقے سے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا ہے۔ “یہ ایک ایسا واقعہ ہے جسے اس نظامی عمل اور بہت سے دوسرے فلسطینی صحافیوں کے قتل کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔”

الجزیرہ کے صحافی علی السمودی، جنہیں اسرائیلی فورسز نےابو عاقلہ کے ساتھ گولی مار دی تھی لیکن اب ان کی حالت مستحکم ہے، نے کہا کہ جائے وقوعہ پر فلسطینی مسلح جنگجوؤں کی موجودگی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیلی فوج کے چھاپے کی فلم بنانے جا رہے تھے کہ اچانک انہوں نے ہمیں فلم چھوڑنے یا فلم بند کرنے کے لیے کہے بغیر گولی مار دی۔

’’پہلی گولی مجھے لگی اور دوسری گولی شیریں کو لگی۔ انہوں نے اسے سرد مہری سے قتل کیا کیونکہ وہ قاتل ہیں اور وہ صرف فلسطینی عوام کو قتل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جائے وقوعہ پر فلسطینیوں کی طرف سے کوئی فوجی مزاحمت نہیں تھی۔

قتل کا ذمہ دار اسرائیل

فلسطینی اتھارٹی کی صدارت نے ابو عاقلہ کے قتل کو ’پھانسی کا جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا،”صدارت اسرائیلی حکومت کو اس گھناؤنے جرم کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو عاقلہ کا قتل “صحافیوں کو حقیقت کو چھپانے اور خاموشی سے جرائم کرنے کے لیے نشانہ بنانے کی قبضے کی پالیسی کا حصہ ہے”۔

قطر کے نائب وزیر خارجہ نے مغربی کنارے میں “اسرائیلی قبضے” کے ہاتھوں الجزیرہ کے رپورٹر کے قتل کی مذمت کی۔ ایک ٹویٹر پوسٹ میں، انہوں نے “ریاست کی سرپرستی میں اسرائیلی دہشت گردی” کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

الجزیرہ کے مینیجنگ ڈائریکٹر جائلز ٹرینڈل نے کہا کہ نیٹ ورکابو عاقلہ کے قتل سے “حیران اور رنجیدہ” ہے۔ ٹرینڈل نے یاد دلایا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے حملے کے دوران ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل الجزیرہ اور دیگر میڈیا اداروں کے دفاتر کی عمارت پر بمباری کی گئی تھی۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں