انمول نامی ایک خاتون، جو “پنکی” کے عرف سے مشہور ہے، کراچی میں مبینہ منشیات سپلائی نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں گرفتاری کے بعد خبروں کی زینت بن گئی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ملزمہ پر الزام ہے کہ وہ شہر کے مختلف علاقوں میں کوکین، کرسٹل میتھامفیٹامین (جسے عام طور پر “آئس” کہا جاتا ہے) اور ایکسٹیسی جیسی منشیات کی سپلائی میں ملوث تھی۔ تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ نیٹ ورک زیادہ تر پوش علاقوں میں سرگرم تھا اور نوجوانوں کو خفیہ ترسیل اور آن لائن رابطوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کو کراچی کے علاقے گارڈن میں ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا، جہاں سے مبینہ طور پر منشیات، کیمیکل اور منشیات کی تقسیم سے متعلق دیگر سامان برآمد کیا گیا۔
یہ کیس اُس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں ملزمہ کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرتے دیکھا گیا۔ اس معاملے پر شدید تنقید سامنے آئی، جس کے بعد پولیس کے رویے اور طریقہ کار سے متعلق انکوائری شروع کر دی گئی۔
تفتیشی حکام کا مزید کہنا ہے کہ “پنکی” کا نام کراچی کی مبینہ خفیہ منشیات مارکیٹ میں خاصی شہرت اختیار کر چکا تھا، جس کے باعث بعض میڈیا اداروں نے اسے شہر کی نام نہاد “ڈرگ کوئین” قرار دیا۔
حکام کے مطابق اس وسیع نیٹ ورک سے متعلق تحقیقات تاحال جاری ہیں، جبکہ ملزمہ کے خلاف الزامات عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہیں۔ اب تک کسی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق انمول پنکی 14 سال کی عمر میں ماڈل بننے کے لیے نکلی اور پارٹیوں میں جانا شروع کیا ہے، انمول عرف پنکی کی وکیل سے شادی ہوئی جو عالمی کوکین گینگ میں کام کرتا تھا، شادی کے بعد ملزمہ نے کوکین کا کام شوہر کے ساتھ شروع کیا ہے۔
وکیل شوہر سے طلاق کے بعد پنکی نے پولیس افسر سے شادی کی، تین بھائیوں کی مدد سے کوکین یکا نیٹ ورک قائم اور ڈیلر بن گئی، انمول نے کوک بنانے کا طریقہ انٹرنیٹ سے سیکھا بعد میں اپنا برانڈ بھی بنا لیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ کو پانچ سال قبل پنجاب پولیس نے گرفتار کیا اور مبینہ طور پر 7 کروڑ روپے رشوت لے کر چھوڑا، پنکی لاہور سے دو خواتین کے ذریعے ٹرین سے کوکین کے پانچ پیکٹ کراچی بھیجتی تھی۔
اسٹیشن سے بائیک رائیڈرز منشیات کے الگ الگ پیکٹ لے کر ڈیلرز تک پہنچاتے تھے، ڈیلرز کی مدد سے کوکین شہریوں کو بھیجی جاتی، پیسے اکاؤنٹ سے ٹرانسفر ہوتے تھے، ملزمہ انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک میں کوئی ایک دوسرے سے نہیں ملتا تھا۔
ملزمہ انمول پنکی نے گلگت میں ایک ہوٹل بھی بنا رکھا ہے، گروپ میں اس کے بھائی ناصر کی گرل فرینڈ بھی شامل ہے، بھائی کی گرل فرینڈ کی مدد سے کراچی کی پارٹیوں میں کوکین سپلائی کی جاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ انمول کے دو بھائیوں کو ماضی میں کراچی پولیس گرفتار کرچکی ہے، ملزمہ کوکین سے ماہانہ کروڑوں روپے کماتی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








