آفرین فاطمہ کون ہیں؟ بھارتی حکومت نے ان کا گھر کیوں مسمار کیا؟

آفرین فاطمہ کون ہیں؟ بھارتی حکومت نے ان کا گھر کیوں مسمار کیا؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کے گستاخانہ بیان کے خلاف احتجاج ہوا۔ کم و بیش 15 مسلمان ممالک نے بھارت کو گستاخانہ بیان پر سخت ردِ عمل بھی دیا۔

اتوار کی دوپہر کو بھارتی ویلفیئر پارٹی کی رہنما و سماجی کارکن آفرین فاطمہ کے والد کے گھر کو مسمار کردیا گیا۔ مودی حکومت نے ایسے ہی اقدامات گستاخانہ بیان کے خلاف مظاہرہ کرنے والے دیگر مسلمانوں کے خلاف اٹھائے۔

گزشتہ 2سال میں بھارت میں ہندوؤں کے خداؤں کی ہتک کرنے پر کم و بیش 8 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں مسلمان اور مسیحی برادری کے افراد شامل ہیں تاہم توہینِ رسالت ﷺ پر ایک بھی گرفتاری نہیں ہوئی۔ آئیے آفرین فاطمہ کے متعلق کچھ جان لیتے ہیں۔ 

آفرین فاطمہ کون ہیں؟

بھارتی شہری اور طالبہ آفرین فاطمہ نے 11 جون کو خواتین کے قومی کمیشن کو سوشل میڈیا پر ایک درخواست دی جس میں اپنے والد کی حفاظت کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی منتخب طالبہ رہنما آفرین فاطمہ کو بھارت کے کالے قانون سی اے اے (شہریت ترمیمی ایکٹ) کے خلاف تحریک کا ایک مشہور چہرہ سمجھا جاتا تھا۔

فی الحال آفرین فاطمہ ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے اسٹوڈنٹس ونگ برادرانہ تحریک کی سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں تاہم بھارتی حکومت نے ان کے والد کا گھر مسمار کردیا جو ایک بڑا سانحہ کہا جاسکتا ہے۔ 

گرفتاری

قبل ازیں بھارتی پولیس نے آفرین فاطمہ کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے والد محمد جاوید، والدہ اور بہن کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے والد محمد جاوید گستاخانہ بیان کے خلاف احتجاج کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔

مقامی و بھارتی میڈیا نے رپورٹ دی کہ آفرین فاطمہ نے ویڈیو بیان جاری کیا ہے کہ پولیس بغیر وارنٹ کے گھر میں گھس آئی اور میرے والد کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے میری ماں اور بہن کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

رپورٹ کے مطابق آفرین فاطمہ کا کہنا تھا کہ میری چھوٹی بہن کی عمر صرف 19 سال ہے۔ والدہ ذیابیطس کی مریضہ ہیں۔ پولیس نے مجھے اور میری بھابھی کو بھی گرفتار کرنے کی ناکام کوشش کی۔

گھر منہدم

بھارتی حکومت نے آفرین فاطمہ کے گھر کو مسمار کردیا ہے۔ جے سی بی کے بلڈوزر آفرین فاطمہ کے والد کے گھر پہنچے اور پولیس کی نگرانی میں اگلے اور پچھلے گیٹس کھٹکھٹانے کے بعد بلڈوزور سے گھر کا ذاتی سامان نکال کر گھر کے ساتھ خالی میدان میں پھینک دیا گیا۔

الزام تراشی

اتر پردیش پولیس نے سی اے اے مخالف مظاہروں میں سرکردہ شخصیت جاوید محمد پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف بی جے پی رہنماؤں کے متنازعہ بیانات کے  خلاف احتجاج کی کال دی اور وہ مرکزی ماسٹر مائنڈ تھے۔بعد ازاں پولیس نے ان کی بیوی اور بیٹی کو رہا کردیا۔ 

نوٹس 

آج سے 3 روز قبل 11 جون کو آفرین فاطمہ کے گھر کو مسمارکرنے کا نوٹس موصول ہوا۔ پولیس نے بظاہر آفرین فاطمہ اور اہلِ خانہ کو فوری گھر سے نکل جانے کی ترغیب دی۔ پولیس اہلکاروں کی ٹیم نے 11 جون کو گھر پہنچ کر اہلِ خانہ کو بلڈوزر کارروائی کی دھمکی دی۔

سرکاری نوٹس میں جاوید محمد اور اہلِ خانہ کو گھر کی تعمیر غیر قانونی ہونے کا حوالہ دیا گیا تاہم امام نے نوٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کچھ بھی نہیں ملا اور 5 منزلوں یا اس سے اوپر کی تعمیر کے متعلق ہم کوئی معلومات نہیں رکھتے۔

پہلے کوئی نوٹس نہیں ملا

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ حکام نے گھر کی تعمیر غیر قانونی ہونے کے متعلق ماضی میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔ 

عدالت سے درخواست

آفرین فاطمہ خاندان کے وکیل کمل کرشن رائے نے الٰہ آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے مسماری کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ گھر جاوید کی اہلیہ پروین فاطمہ کے والد کی جانب سے تحفہ تھا۔

مسلم پرسنل لاء کے تحت جب خاتون کو کوئی جائیداد دی جاتی ہے تو وہ خودبخود اس کے شوہر کی ملکیت تصور نہیں کی جاتی۔ حکومت کا نوٹس جاوید محمد کے خلاف ہے تاہم جائیداد کے مال جاوید محمد نہیں، پروین فاطمہ ہیں۔ 

کریک ڈاؤن 

اتوار کے روز بھارتی پولیس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کے 2 اراکین کی جانب سے اسلام مخالف تبصرون کے خلاف مسلمانوں کے سڑکوں پر نکل آنے کے بعد مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا جس میں سیکڑوں افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔ 

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں