اسرائیل کی سہولت کاری گلے پڑگئی، جنوبی یمن کے بعد صومالیہ سے بھی امارات کو شرمناک انخلا کا سامنا

تازہ ترین

تازہ ترین

امارات کی صومالیہ سے پسپائی

جنوبی یمن کے بعد متحدہ عرب امارات کو اب صومالیہ سے بھی رسوائی کے ساتھ پسپائی اور بے دخلی کا سامنا ہے، جہاں صومالی حکومت نے اماراتیوں کی تمام فوجی اور لاجسٹک سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صومالیہ کی وفاقی حکومت نے بوساسو، بربرہ اور موغادیشو میں امارات کی تمام ملٹری ایکٹیوٹی، کارگو ہینڈلنگ اور صومالی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ صومالی حکام اماراتی اقدامات پر شدید برہم ہیں اور انہیں صومالی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کیے جانے سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ صومالی حکومت کا موقف ہے کہ امارات صومالی سرزمین کو خفیہ اور مشکوک علاقائی منصوبوں کے لیے استعمال کر رہا تھا۔

پابندی کے بعد اماراتی افواج روسی ساختہ کارگو طیاروں آئی ایل 76 کے ذریعے صومالیہ میں موجود اپنے ایئربیسز اور دیگر تنصیبات خالی کر رہی ہیں۔ مسلسل پروازوں کے ذریعے سکیورٹی اہلکاروں اور بھاری فوجی سازوسامان کو نکالا جا رہا ہے، جسے مبصرین عجلت میں کی جانے والی واپسی قرار دے رہے ہیں۔

بحران اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب یمن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے سربراہ عیدروس قاسم عبدالعزیز الزبیدی اچانک منظر سے غائب ہو گئے۔ الزبیدی، جو امارات کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، جنوبی یمن میں صومالی لینڈ طرز کی ایک الگ ریاست قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ انہیں جنوبی یمن کی کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی غرض سے سعودی عرب بلایا گیا تھا، مگر وہ ریاض پہنچنے کے بجائے اماراتی سہولت کاروں کے ذریعے جنوبی یمن سے غائب ہو گئے۔

بعد ازاں سعودی عرب نے الزام عائد کیا کہ امارات نے الزبیدی کو صومالیہ کے راستے خفیہ طور پر منتقل کیا، جس سے ریاض اور ابوظہبی کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ مزید بڑھ گیا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صومالیہ میں جن فوجی اڈوں کا کنٹرول اماراتیوں کے پاس تھا، وہی اڈے سوڈان کی باغی ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی مدد اور اسلحہ سپلائی کے لیے بھی استعمال ہو رہے تھے، جو ایک بڑے خفیہ نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے۔

یمن کے بعد اب صومالیہ سے بھی اماراتی اثر و رسوخ کا خاتمہ ایک بڑے سفارتی اور اسٹریٹجک دھچکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بظاہر اتحادی ہونے کے باوجود عملی طور پر ایک دوسرے کے علاقائی مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یہ صورتحال ہارن آف افریقہ میں امارات کی پالیسیوں کی ناکامی اور خطے میں بڑھتی ہوئی مزاحمت کو واضح کرتی ہے، جہاں اب ابوظہبی کو ایک اور محاذ پر پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔

Related Posts