مسلم حکمران بیت المقدس کی آزادی کیلئے پلان دیں، مرکزی مسلم لیگ

پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر فیصل ندیم نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں ہونے والی کشیدگی کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ فلسطین پر ناجائز قبضے کیخلاف فلسطینی عوام کی مزاحمت عالمی قوانین کے عین مطابق اور فلسطینیوں کا حق ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینا سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے تحت مظلوم فلسطینی عوام سے یکجہتی اور ظالم و غاصب اسرائیل کی مذمت کےلیے کراچی پریس کلب پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر کا غزہ پر قیامت ڈھانے کا اعلان

احتجاجی مظاہرے میں مرد و خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے صہیونی افواج کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کے خلاف شدید غم و غصے اور فسلطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز، پلے کارڈزاٹھا رکھے تھے، جن پر مختلف نعرے درج تھے۔

مظاہرے سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان، امجد اسلام، انجینئر نعمان و دیگر نےبھی خطاب کیا۔ فیصل ندیم کا کہنا تھا کہ ناجائز صہیونی ریاست کئی دہائیوں سے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ فلسطینی مسلمان اپنے ہی ملک میں محصور اورمظالم کا شکار ہیں۔ بےگناہ، نہتے اور معصوم فلسطینی مسلمانوں کی شہادتوں اور نقصانات پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ امن عالم کی دعوے دار سپر طاقتیں اور اقوام متحدہ فلسطین میں اسرائیل کے بد ترین مظالم پر خاموش ہی نہیں بلکہ ظالم اسرائیل کے ہمنوا بنے ہوئے ہیں۔ مسئلہ فلسطین و کشمیر میں اقوام متحدہ کا کردارہمیشہ جانبدارانہ رہا ہے۔

احمد ندیم اعوان نے کہا کہ امت مسلمہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مقروض ہے۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے قانونی حق کو اسرائیل اور بھارت پامال کر رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک انسانیت کے قاتل بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو فلسطین اور کشمیر کے تنازعات پر امت کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر دونوں خطوں کی آزادی کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل ناگزیر ہے، مسلم امہ کو اپنی صفوں میں اتحاد کی فضا قائم کرنا ہوگی۔ مسلم حکمران مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے قابل عمل پلان بنائیں۔ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ زبانی جمع خرچ اور قراردادوں سے حل نہیں ہوگا۔