اسٹیل مل ملازمین کی برطرفی، ہزاروں چولہے بجھ گئے، کیا نجکاری ہی آخری حل ہے ؟

اسٹیل مل ملازمین کی برطرفی، ہزاروں چولہے بجھ گئے، کیا نجکاری ہی آخری حل ہے ؟

حکومت یک جنبش قلم پاکستان اسٹیل ملز کے 4 ہزار 544 ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کردیاہے، پے گروپ 2، 3، 4 کے ملازمین کے علاوہ جونیئر آفیسرز ،اسسٹنٹ منیجرز، ڈویژنل منیجر، ڈی سی ای، ڈی جی ایم اور منیجرز کو بھی فارغ کردیا گیا ہے۔

ملازمین کو بذریعہ ڈاک ان کی برطرفیوں کے خطوط ارسال کردیے گئے ہیں تاہم اسٹیل مل کے اسکول و کالج کے اسٹاف کو برطرف نہیں کیا گیا جبکہ ڈپارٹمنٹس کے کارپوریٹ سیکریٹریز کو برطرف نہیں کیا گیا۔

اسٹیل مل کا قیام
سوویت یونین نے 1956ء میں پاکستان میں اسٹیل ملز لگانے کی پیشکش کی تھی تاہم ملک میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ بیل منڈیر نہ چڑھ سکی لیکن صدر ایوب خان کے 1967 ء کو دورہ روس میں اسٹیل ملز کے قیام کا معاہدہ طے پایا اور ملک میں سیاسی طلاطم تھمنے کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1971اور1972ء میں روس کے دو دورے کئے اور 1973ء میں پاکستان اسٹیل ملز کاسنگ بنیاد رکھا گیااور12سال بعد 1985 میں ضیاء الحق نے اسٹیل مل کا افتتاح کیا ۔

اگست 1981 میں پہلی بلاسٹ فرنس اور اگست 1984 میں دوسری بھٹی نصب کی گئی۔ یہ بھٹیاں 1750 ٹن دھات پگھلایا کرتی تھیں۔ 1983 سے ہی اس میں فولادی چادروں کی تیاری کا آغاز ہو چکا تھا۔ قیام کے وقت مل کی استعداد کار سالانہ گیارہ لاکھ ٹن تھی جسے اپ گریڈ کر کے تیس لاکھ ٹن تک لے جایا جا سکتا تھا۔ مل میں کوک، پگ آئرن، بلٹس، کولڈ اینڈ ہاٹ رولڈ شیٹس اور گیلوینائزڈ شیٹس تیارکی جاتی تھیں۔

پیداواری صلاحیت
اپنے قیام کے بعد ضیاء دور میں پاکستان اسٹیل ایک قابل فخر ادارہ تھا اور ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جب اسٹیل مل اپنی بھرپور پیداوار صلاحیت کے باوجود ملکی ضرورت پوری کرنے میں ناکام رہی۔ پاکستان اسٹیل مل ملکی ضرورت کا 30 فیصد پیدا کرتی تھی۔

اسٹیل مل میں آئرن کو ریفائن کرکے پگھلانے 40گرام اور60 گرام کی طاقت کے لوہے میں ڈھالنے کی صلاحیت تھی، اس لوہے کی کھپت کا تخمینہ ایک لاکھ ٹن ماہانہ لگایا گیا تھا لہذا اسٹیل مل کی پروڈکشن کیپیسٹی بھی ایک لاکھ ٹن ماہانہ یا سوا ملین ٹن سالانہ رکھی گئی تاہم اس میں دوگنا پیداوار کی صلاحیت پیدا کرنا بھی ممکن ہے مگر کسی بھی حکومت نے اس کی پیداوار بڑھانے پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔

پاکستان اسٹیل کی مصنوعات کی کھپت
پاکستان اسٹیل کے حوالے سے پالیسی سازوں نے پابندی عائد کی کہ ملکی تاجر و سرمایہ دار صرف پاکستان اسٹیل مل کی مصنوعات ہی خریدیں گے جس کی وجہ سے اس ادارہ کی پیداوار اور کھپت ہمیشہ غیر متوازن رہی اور پاکستان اسٹیل اپنی پوری کوشش کے باوجود ملکی ضرورت پوری نہیں کرسکا یا دوسرے معنوں میں پاکستان اسٹیل کی مصنوعات ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتی رہیں۔

ملکی تاجروں کیلئے یہ ضروری تھا کہ اگر اسٹیل مل ضرورت پوری نہیں کرسکتی تو پی ایس ایم سے این او سی لیکر کہیں اور سے خریداری کرسکتے ہیں اس کے باوجود پاکستان اسٹیل مل کی موجودہ حالت زار خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

نجکاری کا فیصلہ
1985ء میں پیداوار کا آغاز کرنیوالی پاکستان اسٹیل مل 2008ء تک بخیر و خوبی ملکی معیشت اور ترقی میں اپنا کردار اداکرتی رہی لیکن 2008ء کی عالمی کساد بازاری نے پاکستان اسٹیل مل پر بھی منفی اثر ڈالا اور پاکستان کا یہ قابل فخر ادارہ 7 سال مشکلات برداشت کرتے کرتے بالآخر 2015ء میں بے جان ہوگیا اور ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں اور واجبات حکومت قومی خزانے سے ادا کرتی رہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی اورپاکستان مسلم لیگ ن نے اسٹیل مل کی بحالی کیلئے اقدامات کے بجائے نجکاری پر زور رکھا جبکہ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے اسٹیل مل چلانے کی کوشش کی تاہم حالات کے تھپیڑوں نے پی ٹی آئی حکومت کے قدموں کو بھی اکھاڑ دیا جس کا نتیجہ ملازمین کی برطرفی کی صورت میں نکلا ہے۔

کیا نجکاری ہی آخری حل ہے
گزشتہ روز اسٹیل مل ملازمین کی برطرفی کی اطلاع ملتے ہی ایک ملازم صدمے سے چل بساجبکہ ہزاروں بیروزگار ہونیوالے ملازمین اپنے حق کیلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دہائیوں تک منافع بخش اور قابل فخر رہنے والا ادارہ سفید ہاتھی کیسے بن گیا، حکومت یا ادارہ سے کہاں غلطیاں ہوئیں جس کا خمیازہ آج ہزاروں خاندانوں کے لاکھوں لوگو ں کو بھگتنا پڑرہاہے۔

حکومت کو ہر ماہ ملازمین کی تنخواہوں کیلئے کروڑوں روپے دینے پڑتے ہیں جو عوام سے زیادتی ہے کیونکہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ایک بے جان قوت کو سہارا دینے پر خرچ ہوتے ہیں لیکن یکسر ہزاروں لوگوں کو بیروزگار کرنا بھی درست نہیں۔

ماضی کی طرح کاروبار دوست پالیسیاں بناکر اسٹیل مل کا پہیہ چلایا جاسکتا ہے یا پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے بھی ادارہ کو کسی حد تک سہارا دینا ممکن ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت روزگار دینے کے وعدے پر اقتدار میں آئی لیکن آج روزگار چھیننے کی پالیسی خود پی ٹی آئی کے منشور کی بھی نفی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے حکومت ملازمین کا چولہا بجھانے کے بجائے ایسی پالیسیاں متعارف کروائے جس سے پاکستان اسٹیل کا پہیہ بھی چل سکے اور لوگوں کا روزگار بھی محفوظ رہے۔