بنوں میں مسلح افراد نے لڑکی کو مردانہ حلیہ اپنانے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بنا کر وائرل کر دی۔
پولیس کے مطابق تحصیل ڈومیل کے علاقے زیرکی سے تعلق رکھنے والی لڑکی پر مسلح افراد نے تشدد کیا، متاثرہ لڑکی کو مردانہ حلیہ اپنانے اور لڑکے کے ساتھ رہنے پر مسلح افراد نے اٹھایا اور اس پر تشدد کیا۔
حکام کا مزید کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کاجائزہ لیا جا رہا ہے اور تشدد میں ملوث ملزمان کی تلاش جاری ہے تاہم ویڈیو میں لڑکی سے کہلوایا گیا کہ وہ آئندہ اس طرح لڑکوں کے ساتھ نہیں گھومے گی اور گھر سے باہر بھی نہیں نکلے گی۔
دوسری طرف ایورڈ وننگ پروفیشنل سکواش چیمپئن ماریہ طورپکئی وزیر کا کہنا ہے کہ بنوں میں طالبان کی طرف سے ایک 12 سالہ لڑکی کو مارنا ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے، افغانستان اور وزیرستان میں بہت سے مرد اپنے گناہوں کو چھپاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیڈو فیلیا، منشیات اور دیگر غیر اخلاقی کام خواتین پر سخت قوانین نافذ کر کے یا مذہب کو استعمال کرتے ہوئے بچوں کی شادیوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ ان کا اپنے اصل چہروں کو چھپانے اور عزت دار نظر آنے کا طریقہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








