کراچی میں آوارہ کتوں کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صرف پانچ دن کے دوران آوارہ کتوں کے کاٹنے کے آٹھ سو سے زائد واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے شہر میں پیدا ہونے والی صورتحال کی سنگیی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ گلی محلوں، سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خوف و ہراس کا سبب بن چکی ہے، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح اور فوری حکمتِ عملی نہ ہونے پر شہری انتظامیہ کو سخت تنقید کا سامنا بھی ہے۔
کراچی کے شہری آوارہ کتوں کے رحم و کرم پر، پانچ دن میں 800 سے زائد شہری اسپتال پہنچ گئے
آوارہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شہردار کراچی مرتضیٰ وہاب کنفیوژ نظر آرہے ہیں، انہوں نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس مسئلے کی سنگینی کا مکمل احساس ہے، تاہم اگر کتوں کی نیوٹرنگ کی جائے تو اس عمل میں وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے، جس پر فوری توجہ درکار ہے۔
میئر کراچی نے مزید بتایا کہ 20 سے 25 افراد یا گروہ آوارہ کتوں کو مارنے کے خلاف ہیں، جو اس حوالے سے عدالتوں سے حکمِ امتناع حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی قانونی رکاوٹوں کے باعث فوری اقدامات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں فوری ایکشن کے لیے کتوں کو مارنا ناگزیر ہے اور اس معاملے پر اکثریت کی رائے بھی یہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے پر ایک بار حتمی فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ شہریوں کو مزید خطرات سے بچایا جا سکے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری، مؤثر اور پائیدار حل کے ذریعے آوارہ کتوں کے مسئلے پر قابو پائے، تاکہ کراچی کے باسی خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








