اڑتا ہوا قلعہ، جیمرز، فول پروف حصار، بیرونی دوروں میں اعلیٰ امریکی شخصیات کے سیکورٹی پروٹوکول کی ہوشربا تفصیلات

تازہ ترین

تازہ ترین

صدر ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ اپنے بیرونی دورے پر، فائل فوٹو

متوقع طور پر کل اعلیٰ ترین امریکی وفد مذاکرات کیلئے اسلام آباد آرہا ہے، کیا آپ جانتے ہیں کہ بیرونِ ملک دوروں کے دوران امریکی صدر یا نائب صدر کا سیکیورٹی پروٹوکول کس قدر پیچیدہ اور خفیہ ہوتا ہے، اور ایک چھوٹا سا دورہ بھی کیسے ایک مکمل فوجی سطح کے سیکیورٹی آپریشن میں بدل جاتا ہے؟

سفر نہیں۔ سیکورٹی آپریشن

ایک رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر یا کسی بھی اعلیٰ امریکی وی آئی پی کے دورے کو عام سفارتی سفر نہیں بلکہ ایک مکمل “سیکیورٹی آپریشن” سمجھا جاتا ہے، جس کی تیاری مہینوں پہلے شروع ہو جاتی ہے۔

یو ایس ایس ایس کی ذمے داریاں

راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر ایک امریکی طیارے کی لینڈنگ کے بعد ایک بار پھر یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ امریکی سیکرٹ سروس (USSS) کس حد تک متحرک ہو چکی ہے اور اس کے سکیورٹی پروٹوکولز کتنے پیچیدہ ہوتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جب بھی امریکی صدر یا نائب صدر کسی غیر ملکی دورے پر روانہ ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک سفری پروگرام نہیں ہوتا بلکہ ایک انتہائی منظم اور حساس سیکیورٹی آپریشن ہوتا ہے۔ اس عمل میں سب سے پہلے امریکی سیکرٹ سروس کی “ایڈوانس ٹیم” میزبان ملک پہنچتی ہے جو ائیرپورٹ سے لے کر قیام گاہ اور ملاقات کے مقامات تک ہر جگہ کا باریک بینی سے جائزہ لیتی ہے۔

یہ ٹیم نہ صرف ممکنہ خطرات کا جائزہ لیتی ہے بلکہ سفر کے تمام راستوں، سیکیورٹی پوائنٹس اور ہنگامی انخلاء کے منصوبوں کو بھی حتمی شکل دیتی ہے۔ میزبان ملک کی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے بھی مکمل طور پر امریکی سیکیورٹی پلان کے مطابق کام کرتے ہیں۔

طیارہ نہیں۔ اڑتا ہوا قلعہ

امریکی وی آئی پی طیاروں، جن میں ایئر فورس ون اور ایئر فورس ٹو شامل ہیں، کو جدید ترین دفاعی نظام سے لیس “اڑتا ہوا قلعہ” قرار دیا جاتا ہے۔ ان طیاروں میں اینٹی میزائل ٹیکنالوجی، جدید جیمرز اور مواصلاتی نظام موجود ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات حفاظتی حکمت عملی کے تحت ایک ہم شکل “ڈیکوائے” طیارہ بھی ساتھ پرواز کرتا ہے تاکہ اصل طیارے کی شناخت کو خفیہ رکھا جا سکے۔

بلٹ پروف اور جیمر گاڑیاں

زمینی نقل و حرکت کے دوران امریکی صدر یا نائب صدر “دی بیسٹ” نامی خصوصی بلٹ پروف گاڑی میں سفر کرتے ہیں جو نہ صرف گولیوں بلکہ کیمیائی حملوں کا بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس قافلے کے ساتھ جیمر گاڑیاں بھی شامل ہوتی ہیں جو ریموٹ کنٹرول دھماکہ خیز مواد اور موبائل سگنلز کو ناکارہ بنا دیتی ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق امریکی سیکرٹ سروس ہر ممکن صورتحال کے لیے پہلے سے “پلان بی” تیار رکھتی ہے، جس میں محفوظ مقامات اور ہنگامی طبی انخلاء کے راستے شامل ہوتے ہیں۔ کسی بھی غیر متوقع صورتحال میں وی آئی پی کو چند سیکنڈز میں محفوظ مقام پر منتقل کرنا اس نظام کا بنیادی حصہ ہے۔

نور خان ایئربیس پر امریکی طیارے کی آمد نے ان سیکیورٹی سرگرمیوں اور ممکنہ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دے دی ہے۔

Related Posts