سینئر سیاستدان محمود مولوی کا عمران خان کے نام کھلا خط، مسائل کے حل کیلئے اہم تجاویز

تازہ ترین

تازہ ترین

سینئر سیاستدان محمود مولوی
سینئر سیاستدان محمود مولوی، فائل فوٹو

سینئر سیاستدان محمود مولوی نے اڈیالہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی سربراہ عمران خان کے نام ایک کھلا خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی، ماضی کی حکومتی کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا ہے۔

اپنے خط میں محمود مولوی نے کہا کہ وہ یہ خط بھاری دل کے ساتھ اور عمران خان کے لیے مکمل احترام کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمران خان نے قوم کو “نئے پاکستان” کا خواب دکھایا تھا، جس میں کرپشن کا خاتمہ، انصاف کی بالادستی، مضبوط ادارے اور میرٹ پر مبنی معیشت شامل تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی طویل جدوجہد اور قربانیوں نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا۔

تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت میں آنے کے بعد اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی بڑی یا انقلابی پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ زیادہ تر لنگر جیسے فوری ریلیف اقدامات تک محدود رہی جبکہ گورننس، معیشت اور ادارہ جاتی اصلاحات جیسے بنیادی شعبے نظر انداز ہو گئے۔

خط میں پنجاب میں بزدار ماڈل پر بھی تنقید کی گئی اور فرح گوگی کے اثر و رسوخ اور کرپشن اسکینڈلز کو عوامی اعتماد میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کا بیانیہ یکسر تبدیل ہو گیا اور سیاسی جماعتوں کے بجائے اسٹیبلشمنٹ پر توجہ مرکوز ہو گئی، جس کے باعث پارٹی کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق آج پی ٹی آئی مقبولیت کے دعوؤں کے باوجود واضح سمت سے محروم دکھائی دیتی ہے اور اس کے کئی اہم رہنما اور کارکن جیلوں میں ہیں۔

محمود مولوی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انتخابات کے موقع پر سیاسی حکمت عملی درست نہ ہونے کے باعث پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور بدلتی عالمی و علاقائی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نیا لائحہ عمل ترتیب دیں۔

خط میں حالیہ سفارتی پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک اہم عالمی بحران کو کم کرنے میں مثبت کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ پارٹی کے سینئر اور تجربہ کار رہنماؤں کو دوبارہ متحرک کیا جائے اور مشاورت کے عمل کو مضبوط بنایا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی معاملات کو حل کرنے کے لیے تمام جماعتوں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مکالمہ ضروری ہے۔

آخر میں محمود مولوی نے پیشکش کی کہ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ثالثی کے عمل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کیا جا سکے اور قومی مفاد کو ترجیح دی جا سکے۔

Related Posts