مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی: دنیا کو معاشی اذیت کا سامنا

تازہ ترین

تازہ ترین

مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال بجائے بہتری کی جانب بڑھنے کے، ہر گزرتے ہوئے روز کے ساتھ ساتھ بد تر ، مزید پیچیدہ اور سنگین ہوتی جارہی ہے اور لگتا کچھ یوں ہے کہ ایران پر امریکا و اسرائیل کے جاری حملوں کے 14ویں روز سامنے آنے والے تکلیف دہ حقائق نے کشیدگی میں جلد کمی اور امید کی کرن کو مدھم اور پامال کر دیا ہے۔اوراگر مایوسی کو کفر قرار دیا جائے تو اس کفر نے پورے خطے کا کچھ اس طرح گھیراؤ کررکھا ہے جیسے آسمان پراچانک چھا جانے والےگھنے اور سیاہ بادل سورج کی کرنوں کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں ۔  

ایران کے دارالحکومت تہران پر اسرائیلی فوج نے جمعہ کی صبح ایک مرتبہ پھر آب و تاب کے ساتھ فضائی حملوں کی ایک “وسیع لہر” شروع کی، جس کے نتیجے میں دھماکوں کے بعد شہر کے مختلف حصے دھوئیں کے گھنے بادلوں سے گھر گئے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران کی ریاستی اور نیم فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ بسیج فورس کی جانب سے قائم کی گئی  چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ، جس کا مقصد حکومتی کنٹرول کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے۔

اس کٹھن مرحلے اور ماحول میں ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی اپنا پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا اور  اپنے والد کے حالیہ قتل کے بعد گزشتہ ہفتے منصب سنبھالنے والے خامنہ ای نے واضح الفاظ میں خبردارکیا کہ ایران اپنے شہدا خصوصاً مناب سکول کے شہدا کا بدلہ لئے بغیر نہیں رہے گا، دشمن کو ایرانیوں کے خون کا حساب دینا پڑے گا۔ دشمن پر دباؤ ڈالنے کیلئے آبنائے  ہرمز کو بند رکھا جائے گا،، ایرانی رہنماؤں اورعوام کے درمیان رابطہ ہمیشہ قائم رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ان کا عہدہ ان سے کئی چیزوں کا تقاضا کر رہا ہے، دشمن ایرانی عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں، عوامی یکجہتی کے ساتھ دشمن کو شکست دیں گے۔ سپریم لیڈر کے اس بیان نے اس نظرئیے  کو مزید تقویت دی ہے کہ یہ تنازع محض محدود فوجی کارروائیوں پر محیط نہیں بلکہ ایک طویل اور پیچیدہ علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے اور دنیا کو بھی اس جنگ سے درد محسوس ہونا شروع ہوگیا ہے جسے روکنا کسی ایک فریق کے بس سے باہر ہوتا جارہا ہے ۔

اس دوران آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید اضطراب پیدا کر دیا ہے، کیونکہ  خلیج فارس کو خلیج عمان سے ملانے والی یہ آبی گزرگاہ خلیجی ممالک کے تیل و گیس برآمد کنندگان کے لیے کھلے سمندر تک رسائی کا واحد راستہ تصور کی جاتی ہے۔ ایران نے اعلان کیا ہے کہ یہ گزرگاہ اس کے کنٹرول میں ہے اور امریکہ یا اسرائیل سے وابستہ جہازوں کے  اس میں سے  گزرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ دیگر جہازوں کو بھی ایرانی اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔ اس صورتحال کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی۔

ایرانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہری جانی نقصان بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے بتایا کہ حملوں کے نتیجے میں  اب تک کم از کم 1,348 شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں آٹھ ماہ کے شیر خوار بچوں سے لے کر 88 برس تک کے معمر افراد شامل ہیں۔

دوسری جانب خلیجی ممالک بھی اس جنگ کے دائرے میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے ان ریاستوں کی جانب ڈرون اور میزائل حملوں کی متعدد لہریں بھیجیں جہاں امریکی فوجی اڈے یا اہلکار موجود ہیں۔ بحرین نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے آغاز، یعنی 28 فروری سے اب تک اس نے 114 میزائل اور 190 ڈرون تباہ کیے ہیں۔ سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں بھی متعدد ڈرون مار گرائے گئے جبکہ مملکت  کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے مزید 28 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے خطے پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور بعض ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کئی ممالک  نے اپنے غیر ضروری سرکاری اہلکاروں کو متحدہ عرب امارات اور اسرائیل چھوڑنے کا حکم دیا ہے اور اپنے شہریوں کو بھی فوری طور پر مشرقِ وسطیٰ سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔

قطر نے بھی جزوی طور پر فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم قطر ایئرویز نے پھنسے ہوئے شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کو واپس لے جانے کے لیے 140 سے زائد خصوصی پروازوں کا شیڈول جاری کیا ہے۔ اسی دوران قطر نے اسرائیلی میڈیا کی ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اس نے امریکی توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے ایل این جی کی پیداوار جان بوجھ کر معطل کی۔ قطری حکام کے مطابق پیداوار کی معطلی دراصل ایک ایرانی ڈرون حملے کے باعث مجبوراً کی گئی۔

امریکہ میں بھی اس جنگ کے حوالے سے سیاسی مباحثہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ “بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے” اور امریکی فوجی صلاحیتیں بے مثال ہیں۔ تاہم داخلی سطح پر اس جنگ کے خلاف آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں۔ 250 سے زائد امریکی تنظیموں نے کانگریس کو ایک خط پر دستخط کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کے لیے فنڈنگ روک دی جائے، کیونکہ صرف ابتدائی چھ دنوں میں 11.3 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جو  وسائل کو ملک کے اندرونی فلاحی پروگراموں سے چھین رہے ہیں  اور جنگ پر خرچ کر رہے ہیں جبکہ ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فی الحال ایسی ضرورت نظر نہیں آتی، تاہم یہ تنازع جلد ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران میں ممکنہ “رجیم چینج” کے لیے حالات پیدا کر سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ایرانی عوام کو سڑکوں پر نکل کر کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک منصوبوں کو زیر زمین منتقل ہونے سے روکنا ہے۔

ایرانی دارالحکومت تہران میں یوم القدس کے موقعے پر ہزاروں افراد کی بڑی ریلی کے دوران جمعہ کے روز ایک شدید دھماکہ ہوا جو اسرائیلی فضائی حملہ تھا، ریلی میں ہزاروں شہری شریک تھے۔فردوسی اسکوائر کے قریب جاری ریلی کے مقام پر دھماکے سے دھویں کے بادل اٹھنے لگے، اس دوران ایک خاتون جاں بحق جبکہ کئی افراد زخمی ہوگئے، گو کہ مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔ اس دوران ایرانی عوام نے ریلی جاری رکھنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی  اور اسرائیل اور امریکا مردہ باد کے نعرے بھی لگائے جو ایرانی عوام کی ہمت اور جوش و جذبے کا عکاس ہے۔ عوامی سطح پر حملوں کے خوف کے باوجود بڑی تعداد میں ریلی میں شرکت سے پتہ چلتا ہے کہ ایران میں عوا م کے حوصلے نہ صرف بلند ہیں بلکہ وہ اسرائیل اور امریکا کے خلاف غم و غصے کا بھی اظہار کر رہے ہیں، جو رجیم چینج کا نظریہ رکھنے والے ممالک کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

خطے کے دیگر حصوں میں بھی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ عراق کے مغربی علاقے میں ایک امریکی کے سی-135 ایندھن بردار طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ عراقی مزاحمتی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طیارے کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق طیارہ دوستانہ فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوا اور اسے کسی دشمن کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔لبنان میں اسرائیلی بمباری بدستور جاری ہے جہاں جنوبی قصبوں اور دیہات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ صیدا کے قریب واقع گاؤں ارکی پر ایک حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے جن میں پانچ بچے بھی شامل تھے۔ لبنانی حکام کے مطابق گزشتہ پیر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 687 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 98 بچے شامل ہیں، جبکہ شدید بمباری کے باعث سات سے ساڑھے سات لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

یہ تمام تر صورتحال اتنی سنگین اور تشویشناک ہے کہ جنگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے مشرق وسطیٰ کے تمام قائدین کو یکسو ہو کر اس کے خلاف لائحہ عمل تشکیل دینا اور اس تنازعے کے اہم فریقین یعنی امریکا، اسرائیل اور ایران کو جنگ کے شعلوں کو مسلسل ہوا دینے کے عمل سے روکنے کیلئے سفارتکاری کا سہارا لینا ہوگا، تاکہ جنگ کی طوالت کم کرکے خطے پر ہونے والے بد ترین اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے، بصورتِ دیگر یہ معاملات خود فریقین کے ہاتھ سے بھی نکل سکتے ہیں۔

Related Posts