بین الاقوامی میڈیا میں ایک خبر زیرِ گردش ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان نے سوڈان کو ہتھیاروں اور طیاروں کی فراہمی سے متعلق تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا معاہدہ سعودی عرب کی درخواست پر روک دیا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی یہ رپورٹ صحافتی حقائق پر مبنی نہیں بلکہ اندازوں اور مفروضوں کی بنیاد پر کی گئی قیاس آرائی ہے جسے خبر کے طور پر پیش کردیا گیا۔
پاکستانی حکام کی جانب سے اس دعوے کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، نہ دفتر خارجہ نے اس کی توثیق کی ہے اور نہ ہی آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے۔
تشویشناک طور پر رائٹرز نے ایک حساس جغرافیائی و سیاسی دعوے کی بنیاد ایسے نامعلوم ذرائع پر رکھی ہے جن کی شناخت یا ذمہ داری واضح نہیں، اس طرزِ عمل سے خبر کی تصدیق نہیں ہوتی بلکہ ایک مخصوص بیانیہ بنانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
کسی ایسے معاہدے کی منسوخی کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا جس کی خود تصدیق موجود نہ ہو، محض اندازے پر مبنی ہے جبکہ پاکستان کی خاموشی کو ثبوت کے طور پر پیش کرنا پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔
رائٹرز جیسے مؤقر ادارے کی جانب سے کسی سرکاری مؤقف کے سعودی عرب کا نام اس دعوے میں شامل کرنا غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی سنگینی میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ اب تک نہ پاکستان اور نہ ہی سعودی عرب نے اس کی تصدیق کی ہے اور سرکاری ذرائع سے واضح توثیق سامنے آنے تک اس خبر کو ایک غیر مصدقہ دعویٰ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








