امداد کے عالمی اعلانات زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں ہونے چاہئیں

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

موجودہ حکومت اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی فورمز پر پاکستان کے سیلاب زدگان کا مقدمہ لڑ رہی ہے اور اربوں ڈالرز کے ریلیف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام (یو این ڈی پی) نے گزشتہ روز سامنے آنے والے بیان کے مطابق کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی قرض کی ادائیگی میں ریلیف دیا جانا چاہئے۔  عالمی ادارے اور ممالک قرض واپسی کیلئے پاکستان کو ریلیف دیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ پاکستان کیلئے عالمی قرضہ جات کی ادائیگی معطل کردینی چاہئے۔ سیلاب سے بڑا انسانی بحران سر اٹھا رہا ہے۔ معیشت کو نقصان پہنچا۔ پاکستان کو بھی چاہئے کہ قرض ری شیڈول کرنے کی درخواست کرے۔

بلاشبہ پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، ساڑھے 3 کروڑ افراد بے گھر ہوئے، 1600 کے قریب اموات اور 13 ہزار کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں اور کروڑوں افراد بے یارومددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ بہت بڑی آفت ہے جس کا پاکستان کو سامنا ہے اور اس پر بین الاقوامی اداروں سے قرض میں ریلیف حاصل کرنا اور امداد طلب کرنا پاکستان کی ضرورت اور مجبوری ہے۔

پاکستان کی معیشت پہلے ہی نہایت ابتری سے دوچار ہے اور طویل عرصے سے آکسیجن ٹینٹ میں مصنوعی تنفس کے ذریعے اپنا وجود قائم رکھنے کی کوشش میں ہے۔ قرضوں کی ماری ملکی معیشت میں اتنی سکت نہیں کہ وہ سیلاب کی آفت سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ اٹھا سکے اور سیلابوں سے متاثر  لاکھوں خاندانوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کا پہاڑ اکیلے سر کر سکے۔

یوں بھی دنیا مانتی ہے کہ پاکستان کو اتنے بڑے پیمانے پر سیلابوں سے نقصان دراصل موسمیاتی تغیر اور عالمی حدت کا نتیجہ ہے۔ ساتھ ہی دنیا یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ماحول کے اس تغیر میں پاکستان کا اتنا حصہ نہیں، جتنا وہ اس کا شکار ہوا ہے۔ ایسے میں یہ ان تمام صنعتی اور ترقی یافتہ ملکوں کا فرض ہے کہ وہ اس مشکل سے نکلنے میں پاکستان کا ساتھ دیں۔

اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی امدادی اداروں اور دنیا کے مختلف ملکوں کی طرف سے اب تک امداد کے اعلانات کافی حد تک حوصلہ افزا ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اعلانات زبانی جمع خرچ تک محدود نہ رہیں، دنیا آگے بڑھ کر عملی طور پر سیلاب کے نقصانات کے ازالے کیلئے پاکستان کی مدد کرے۔

Related Posts